ممبئی: شیو سینا (یو بی ٹی) کے رکن پارلیمان سنجے راؤت نے مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کے نتائج پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ممتا بنرجی نے کانگریس کے رہنما راہل گاندھی کی بات نہ سن کر بڑی سیاسی غلطی کی، جس کے باعث انتخابی نتائج مختلف ہو سکتے تھے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگر ممتا بنرجی اور راہل گاندھی کے درمیان اتحاد کے حوالے سے سنجیدہ گفتگو ہوتی تو بنگال میں سیاسی منظرنامہ بدل سکتا تھا۔
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے سنجے راؤت نے کہا کہ راہل گاندھی نے مغربی بنگال اور تمل ناڈو کے انتخابات کے بارے میں جو خدشات ظاہر کیے تھے، وہ اب درست ثابت ہو رہے ہیں۔ ان کے مطابق راہل گاندھی ایک دوراندیش رہنما ہیں جن کے پاس واضح نظریہ اور سیاسی بصیرت موجود ہے لیکن ان کی بات کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا۔
راؤت نے مزید کہا کہ مغربی بنگال میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی کامیابی کو جمہوریت کی فتح قرار نہیں دیا جا سکتا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ انتخابی عمل کے دوران بڑے پیمانے پر ووٹروں کے نام فہرستوں سے ہٹائے گئے، جس کے باعث لاکھوں افراد اپنے حق رائے دہی سے محروم ہو گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب جیت اور ہار کے درمیان فرق تقریباً گیارہ لاکھ ووٹوں کا ہو اور اس دوران لاکھوں ووٹ کاٹے گئے ہوں تو ایسے نتائج پر سوال اٹھنا فطری ہے۔
انہوں نے اس انتخابی عمل کو بین الاقوامی سطح پر متنازع انتخابات سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے انتخابات انہوں نے پاکستان، روس اور آذربائیجان جیسے ممالک میں دیکھے ہیں، جہاں پہلے نتائج طے ہوتے ہیں اور بعد میں انتخابی عمل مکمل کیا جاتا ہے۔ راؤت کے مطابق یہ صورتحال جمہوری اصولوں کے خلاف ہے اور اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔
سنجے راؤت نے یہ بھی کہا کہ اگرچہ ممتا بنرجی اور تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ ایم کے اسٹالن جیسے بڑے اپوزیشن لیڈروں کو شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے لیکن اپوزیشن اتحاد ’انڈیا‘ کا مستقبل اب بھی روشن ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ سیاست میں اتار چڑھاؤ آتے رہتے ہیں اور جس طرح آج بھارتیہ جنتا پارٹی عروج پر ہے، مستقبل میں اسے بھی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
















