بہار اسمبلی میں حزب اختلاف کے قائد تیجسوی یادو نے خواتین ریزرویشن بل کے لوک سبھا میں گرنے کے بعد اس معاملہ میں اپنی رائے آج میڈیا کے سامنے ظاہر کی۔ تیجسوی یادو نے بی جے پی پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہم خواتین ریزرویشن بل کے خلاف نہیں ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ بی جے پی کا مقصد خواتین کو بااختیار بنانا نہیں بلکہ آئین میں ترمیم کرنا ہے۔ بی جے پی اس بل کے ذریعہ سیاسی فائدہ اٹھانا چاہتی ہے۔‘‘ اس تعلق سے ہفتہ کو میڈیا سے بات کرتے ہوئے تیجسوی یادو نے کہا کہ کوئی بھی پارٹی یا کوئی بھی رکن پارلیمنٹ اس بل کے خلاف نہیں ہے، اس بات کو سمجھنا ہوگا۔ خواتین بل کے بارے میں حکمراں پارٹی سے سوال کیا جانا چاہیے۔
تیجسوی نے کہا کہ یہ بل پہلے ہی منظور ہو چکا ہے۔ ہماری یہ مانگ تھی کہ اس میں او بی سی خواتین اور پسماندہ طبقات کی خواتین کو کیوں شامل نہیں کیا گیا؟ ہم چاہتے ہیں کہ او بی سی خواتین کو بھی ریزرویشن ملے، لیکن ایسا نہیں ہو سکا۔ یہ بل جلدبازی میں اس وقت لایا گیا جب پانچ ریاستوں میں انتخابات جاری تھے۔ تیجسوی نے کہا کہ اس میں ڈی لیمیٹیشن کی باتیں شامل ہیں۔ یہ لوگ 2011 کی مردم شماری کی بنیاد پر چل رہے تھے، جبکہ ہمارا کہنا ہے کہ 2025 کی مردم شماری کے مطابق ہونا چاہیے۔ ظاہر ہے کہ پسماندہ اور دلت طبقات کی آبادی بڑھے گی تو پھر ریزرویشن دینا پڑے گا۔ ذات کی بنیاد پر مردم شماری کرانی ہوگی۔ یہ بی جے پی اور آر ایس ایس کا چھپا ہوا ایجنڈا تھا، جسے وہ لا رہے تھے اور بل کا گرنا طے تھا۔
تیجسوی یادو نے کہا کہ بی جے پی کے لوگ اتنے نادان نہیں ہیں، وہ بھی جانتے تھے کہ ان کے پاس دو تہائی اکثریت نہیں ہے، پھر بھی یہ بل اس لیے لایا گیا تاکہ وہ دکھا سکیں کہ وہ خواتین کے حامی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آر ایس ایس کے لوگ پاؤں دھلواتے ہیں، منوسمرتی میں خواتین کا کیا مقام ہے، اسے پڑھنا چاہیے۔ یہ لوگ اسی کو مانتے ہیں۔ انہیں خواتین کے احترام کا کیا پتہ؟ انہیں صرف اپنی سیاست چمکانے سے مطلب ہے۔
آر جے ڈی لیڈر کا کہنا ہے کہ ڈی لیمیٹیشن کے بعد انہوں نے چھ مقامات پر انتخابات لڑے اور ہر ریاست میں بی جے پی جیت گئی۔ یہ ایک سازش ہے۔ اگر رجحان اور ڈیٹا دیکھیں تو معلوم ہو جائے گا کہ کون سی سیٹ اور کون سا بوتھ کس کے لیے مضبوط ہے۔ جہاں کوئی دوسرا مضبوط ہوگا، اسے کاٹ دیا جائے گا اور چار حصوں میں تقسیم کر دیا جائے گا۔ یہ صاف سازش ہے۔ دراصل ان کا ایجنڈا آئین کو بدلنے کا ہے۔ ڈی لیمیٹیشن کے بعد ان کی سوچ یہی تھی کہ اگر انہیں دو تہائی سے زیادہ اکثریت مل گئی تو وہ آئین بدل دیں گے، لیکن ہمارے ہوتے ہوئے باباصاحب امبیڈکر کے آئین کو کوئی نہیں بدل سکتا۔












