بہار کی راجدھانی پٹنہ سمیت 11 اہم شہروں کے پاس ریاستی حکومت سیٹلائٹ ٹاؤن شپ بنانے جا رہی ہے۔ ان تمام ٹاؤن شپ کے اپنے اپنے الگ الگ نام ہوں گے۔ محکمہ شہری ترقی و رہائش کی سطح سے اس سے متعلق نوٹیفکیشن جاری ہونے کے ساتھ ہی متعلقہ شہروں کے آس پاس نشان زد علاقوں میں زمین کی خرید و فروخت، منتقلی اور زمین کی ترقی یا عمارات کی تعمیر پر روک لگ جائے گی۔ یہ نوٹیفکیشن محکمہ کی سطح سے جلد جاری ہونے کی امید ہے۔ یہ پابندی 2027 تک رہے گی۔ ریاست کے نو منتخب وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری کی قیادت میں بدھ (22 اپریل) کو منعقدہ کابینہ کی پہلی میٹنگ میں مجموعی طور پر 22 ایجنڈوں پر مہر لگی، جس میں سیٹلائٹ شہروں سے متعلق ایجنڈوں کو وسعت دی گئی۔
کابینہ کی میٹنگ کے بعد اس میں لیے گئے فیصلوں کے بارے میں محکمہ کابینہ سکریٹریٹ کے ایڈیشنل چیف سکریٹری اروند کمار چودھری نے تفصیلی جانکاری دی۔ اس موقع پر اپنے اپنے محکموں سے متعلق موضوعات پر تفصیل سے معلومات فراہم کرنے کے لیے متعلقہ محکموں کے سکریٹری بھی موجود تھے۔ محکمہ شہری ترقی اور ہاؤسنگ کے پرنسپل سکریٹری ونے کمار نے بتایا کہ پٹنہ کے قریب تیار ہونے والی ٹاؤن شپ کا نام پاٹلی پترا ہوگا۔ اسی طرح سونپور کی ٹاؤن شپ کا نام ہری ہر ناتھ پورم، گیا جی کا مگدھ، پورنیہ کا پورنیہ، چھپرہ کا سارن، سیتا مڑھی کا سیتا پورم، سہرسہ کا کوسی، منگیر کا اَنگ، مظفرپور کا ترہت، بھاگلپور کا وکرم شیلا اور دربھنگہ کی ٹاؤن شپ کا نام متھلا رکھا گیا ہے۔
واضح رہے کہ محکمہ جاتی نوٹیفکیشن جاری ہونے کے بعد ہی واضح ہو پائے گا کہ کس شہر میں تیار ہونے والی ٹاؤن شپ کی کیا شکل ہوگی۔ اس کے بنیادی (کور) علاقے کی توسیع مخصوص علاقے تک کہاں سے کہاں تک ہوگی۔ نوٹیفکیشن میں علاقہ نشان زد ہونے ہونے کے بعد ان تمام علاقوں میں زمین کی خرید و فروخت یا منتقلی سمیت دیگر تمام سرگرمیوں پر آئندہ ایک سال تک کے لیے پابندی لگ جائے گی۔ مظفرپور، سیتا مڑھی، چھپرہ اور بھاگلپور میں یہ پابندی 30 جون 2027 تک کے لیے رہے گی۔ جبکہ دیگر اضلاع پٹنہ سونپور، گیاجی، دربھنگہ، سہرسہ، پورنیہ اور مونگیر میں پابندی 31 مارچ 2027 تک رہے گی۔ یہ پابندی زمین کی حد بندی کا عمل جاری رہنے تک رہے گی۔











