ممتا بنرجی نے پیر کو بنگال کے انتخابات میں ان کی سیکورٹی کے لیے تعینات سینٹرل آرمڈ پولیس فورس (سی اے پی ایف) پر حملہ کرنے کا سنگین الزام لگایا ہے۔ ’اے بی پی نیوز‘ سے بات کرتے ہوئے ممتا بنرجی نے کہا کہ آپ سنٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) کو دیکھ سکتے ہیں۔ انہوں نے مجھے دھکا دیا اور مارا۔بتا دیں کہ مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ اور بھوانی پور اسمبلی سیٹ کے لیے ٹی ایم سی کی امیدوار ممتا بنرجی پیر کو اسمبلی حلقہ کے سخاوت میموریل کاؤنٹنگ ہال پہنچی تھیں۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ مرکزی فورسز نے مجھے بھی اندر جانے نہیں دیا، یہ جانبدارانہ ہے۔ آپ سی آر پی ایف کو دیکھ سکتے ہیں، انہوں نے مجھے دھکا دیا اور مارا۔ سی آر پی ایف کی موجودگی میں ممتا بنرجی نے کہا انہوں نے ہر جگہ غنڈے لگائے ہیں، میں ایک امیدوار ہوں، پھر بھی انہوں نے مجھے اندر نہیں جانے دیا۔
ممتا نے سخت الفاظ اختیار کرتے ہوئے بی جے پی اور الیکشن کمیشن کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انھوں نے کہا کہ ’’بی جے پی راکشسوں کی پارٹی ہے، اس نے 100 سے زیادہ سیٹیں لوٹی ہیں اور دھوکہ دیا۔ الیکشن کمیشن بی جے پی کا کمیشن ہے۔ میں نے سی ای او منوج اگروال سے بھی شکایت کی لیکن وہ کچھ نہیں کر رہے ہیں۔ کیا آپ کو لگتا ہے کہ یہ جیت ہے؟ یہ ایک غیر اخلاقی جیت ہے، اخلاقی نہیں ہے۔‘‘ وہ مزید کہتی ہیں کہ ’’الیکشن کمیشن نے مرکزی فورسز، وزیراعظم اور وزیر داخلہ کے ساتھ مل کر جو کچھ بھی کیا ہے، وہ پوری طرح سے غیر قانونی ہے۔ یہ لوٹ ہے، لوٹ اور صرف لوٹ ہے، ہم واپسی کریں گے۔
بنگال انتخابات کے نتائج برآمد ہونے کے بعد ٹی ایم سی نے بھی الیکشن کمیشن پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ پارٹی نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے غیر جانبداری کا دکھاوا بھی پوری طرح سے ترک کر دیا ہے۔ ووٹوں کی گنتی کے عمل میں جان بوجھ کر تاخیر اور اسے طول دینے کے بعد، اب یہ ان حلقوں میں بھی سرٹیفکیٹ جاری کرنے سے انکار کر رہا ہے جہاں جیت واضح ہے- ان علاقوں میں ڈائمنڈ ہاربر، مگرہات پوربا، مگرہاٹ مغرب، کلپی، رائے دیگھی، پتھر پرتیما، بسنتی، بردھمان نارتھ اور سیتائی شامل ہیں۔
















