اس معاملے کی سماعت جسٹس دیپانکر دتہ اور جسٹس ستیش چندر شرما کے بنچ میں ہوئی۔ سماعت کے دوران عدالت نے انتہائی سخت تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر کسی بھرتی امتحان کی شفافیت اور غیر جانبداری ختم ہو جائے، تو پورے انتخابی عمل پر سوال اٹھنا فطری ہے اور ایسے انتخاب کو بچایا نہیں جا سکتا۔ منتخب امیدواروں کی جانب سے سینئر ایڈوکیٹ ابھیشیک منو سنگھوی نے عدالت میں دلیل دی کہ جن امیدواروں نے غلط طریقے سے انتخاب پایا تھا، ان کے خلاف پہلے ہی کارروائی ہو چکی ہے۔ ساتھ ہی منتخب امیدواروں کی تربیت پر حکومت کروڑوں روپے خرچ کر چکی ہے، اس لیے پوری بھرتی کو منسوخ کرنا مناسب نہیں ہوگا۔ تاہم سپریم کورٹ ان دلائل سے مطمئن نہیں ہوا۔
سپریم کورٹ نے اس کے ساتھ ہی راجستھان پبلک سروس کمیشن (آر پی ایس سی) کے اس وقت کے چیئرمین سنجے چھتریہ کی درخواست بھی خارج کر دی۔ انہوں نے ہائی کورٹ کی سنگل بنچ کی جانب سے کیے گئے سخت تبصروں کو ہٹانے کا مطالبہ کیا تھا۔ سپریم کورٹ نے واضح طور پر کہا کہ یہ معاملہ مفاد عامہ سے جڑا ہے، اس لیے عدالت کے تبصرے ہٹانے کی کوئی بنیاد نہیں بنتی۔
واضح رہے کہ اس معاملے کی شروعات تب ہوئی جب راجستھان ہائی کورٹ کی سنگل بنچ نے 28 اگست 2025 کو بھرتی کے عمل میں بڑے پیمانے پر پیپر لیک، ڈمی امیدواروں، نقل اور بااثر افراد کے کردار جیسے سنگین الزامات کو دیکھتے ہوئے پوری بھرتی منسوخ کر دی تھی۔ بعد میں ہائی کورٹ کی ڈویژن بنچ نے بھی 4 اپریل 2026 کو اس فیصلے کو درست قرار دیا تھا۔ اب سپریم کورٹ نے بھی اسی فیصلے پر مہر لگا دی ہے۔















