نئی دہلی: مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی کے درمیان وزارتِ خارجہ نے واضح کیا ہے کہ حکومت پورے خطے کی صورتحال پر مسلسل گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور وہاں مقیم ہندوستانیوں کی حفاظت اور فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دی جا رہی ہے۔ وزارت کے اعلیٰ عہدیداروں کے مطابق موجودہ حالات اگرچہ پوری طرح معمول پر نہیں آئے ہیں لیکن ہندوستانی شہریوں کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
وزارتِ خارجہ میں خلیج امور کے اضافی سیکریٹری اسیم آر مہاجن نے ایک بین الوزارتی بریفنگ کے دوران کہا کہ مغربی ایشیا کے خلیجی خطے میں پیش آنے والے تمام واقعات کا باریکی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت کی کوششیں اس بات کو یقینی بنانے پر مرکوز ہیں کہ خطے میں موجود ہندوستانی برادری محفوظ رہے اور انہیں کسی بھی طرح کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
انہوں نے مزید کہا کہ معلومات کے تبادلے اور بہتر تال میل کے لیے ریاستی حکومتوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے ساتھ مسلسل رابطہ برقرار رکھا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی وزارت میں ایک خصوصی کنٹرول روم بھی قائم کیا گیا ہے، جہاں شہریوں اور ان کے اہل خانہ کی جانب سے آنے والے سوالات کے فوری جواب دیے جا رہے ہیں۔ اس اقدام کا مقصد بیرونِ ملک مقیم ہندوستانیوں اور ان کے خاندانوں کو بروقت اور درست معلومات فراہم کرنا ہے۔
مہاجن نے ہوائی سفر کی صورتحال میں بہتری کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ خطے سے ہندوستان کے مختلف شہروں کے لیے اضافی پروازیں چلائی جا رہی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ متحدہ عرب امارات کا فضائی علاقہ مکمل طور پر کھلا ہے اور ہندوستانی و اماراتی فضائی کمپنیاں معمول کے مطابق پروازیں چلا رہی ہیں۔ اس کے علاوہ سعودی عرب اور عمان کے مختلف ہوائی اڈوں سے بھی ہندوستان کے لیے پروازیں جاری ہیں، جبکہ قطر کا فضائی علاقہ جزوی طور پر بحال ہو چکا ہے۔
دوسری جانب بندرگاہ، جہاز رانی اور آبی گزرگاہوں کی وزارت نے بھی یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ وزارتِ خارجہ اور بیرونِ ملک ہندوستانی مشنز کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے تاکہ سمندری عملے کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے۔ وزارت کے مطابق تمام ہندوستانی ملاح محفوظ ہیں اور کسی ناخوشگوار واقعے کی اطلاع نہیں ملی ہے۔
اسی دوران پیٹرولیم کی وزارت نے بھی یہ واضح کیا ہے کہ ملک میں ایندھن کی فراہمی مستحکم ہے اور بجلی کی سپلائی پر کوئی اثر نہیں پڑا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ توانائی کے شعبے میں کسی بھی ممکنہ بحران سے نمٹنے کے لیے پیشگی انتظامات کیے گئے ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ ہفتوں میں شدید کشیدگی دیکھی گئی، جس کے دوران تقریباً چالیس دن تک تنازع جاری رہا۔ آٹھ اپریل کو دو ہفتوں کی جنگ بندی کا اعلان کیا گیا تھا، جس کے بعد مذاکرات کے پہلے دور کا آغاز ہوا، تاہم اس سے کوئی حتمی نتیجہ برآمد نہیں ہو سکا۔ اس وقت آبنائے ہرمز کے معاملے پر دونوں ممالک کے درمیان تناؤ برقرار ہے، جس کے باعث خطے کی صورتحال حساس بنی ہوئی ہے۔
















