گرین پارک میں واقع ’شمشان گھاٹ‘ میں ہریش رانا کی آخری رسومات 9 بجے ادا کی گئیں۔ سوسائٹی والے بھی دکھ کی اس گھڑی میں ہمیشہ ہریش کے اہل خانہ کے ساتھ کھڑے دکھائی دیے۔ ہریش کے دنیا سے رخصت ہونے کی اطلاع ملتے ہیں سوسائٹی میں سناٹا چھا گیا۔ ہر کوئی ہریش رانا اور ان کے اہل خانہ کی بہادری کا تذکرہ کرتا دکھائی دیا۔ بدھ کو آخری رسومات میں شامل ہونے کے لیے سوسائٹی سے کافی تعداد میں لوگ دہلی پہنچے۔ اہل خانہ نے پورے احترام کے ساتھ ہریش کی آخری رسومات ادا کیں۔
ہریش کو ایمس لے جانے سے قبل اہل خانہ نے کہا تھا کہ وہ پوری شان کے ساتھ اپنے بہارد بیٹے کا آخری سفر غازی آباد میں نکالیں گے اور یہیں ’ہِنڈن گھاٹ‘ پر واقع شمشان گھاٹ پر ان کی آخری رسومات ادا کریں گے۔ لیکن میڈیکیٹڈ باڈی اور کچھ دیگر طبی وجوہات کے باعث ڈاکٹروں کے مشورے پر اہل خانہ نے گرین پارک میں واقع شمشان گھاٹ پر آخری رسومات ادا کیں۔
واضح رہے کہ 2013 میں ہوئے ایک دردناک حادثہ نے ہریش کی زندگی ہمیشہ کے لیے بدل دی۔ صرف 19 سال کی عمر میں وہ کومہ میں چلا گیا۔ جولائی 2010 میں ہریش نے چنڈی گڑھ یونیورسٹی میں سول انجنیئرنگ میں داخلہ لیا تھا۔ 2013 میں وہ آخری سال کے طالب علم تھا، اسی دوران اگست 2013 میں ’رکشا بندھن‘ والے دن بہن سے موبائل فون پر بات کرتے ہوئے پی جی کی چوتھی منزل سے گر گیا تھا۔ اس کے بعد سے 13 سال تک مشینوں پر سانسیں، آنکھیں کبھی کبھی جھپکتیں، لیکن بول نہیں پاتا، حرکت نہیں کر پاتا، صرف ’پرماننٹ ویجیٹیٹو اسٹیٹ‘ (مستقل نباتی حالت) میں رہا۔
اہل خانہ نے اسپتال سے لے کر عدالت تک ہریش کے لیے لڑائی لڑنے میں کوئی کمی نہیں چھوڑی۔ والدین نے کبھی ہمت نہیں ہاری، لیکن بیٹے کی اذیت کو دیکھتے ہوئے انہوں نے سپریم کورٹ سے اپنے بیٹے کو ’پیسیو اتھنیسیا‘ (مرضی کی موت) دینے کی اپیل کی، جسے سپریم کورٹ نے قبول کر لیا۔ ہریش کو 14 مارچ کو ایمس میں داخل کرایا گیا تھا اور تب سے ہی ڈاکٹر ان کے ’لائف سپورٹ سسٹم‘ کو آہستہ آہستہ ہٹا رہے تھے۔ گزشتہ تقریباً ایک ہفتے سے تو انہیں کھانا پینا بھی نہیں دیا جا رہا تھا۔ اس دوران ہریش کو صرف درد اور ذہنی تکلیف سے راحت دینے کے لیے دوائیں دی جا رہی تھیں۔
















