مغربی بنگال میں انتخابی نتائج آنے کے بعد شروع ہونے والا ہنگامہ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ اس پر بہار کے سابق وزیر اعلیٰ لالو پرساد یادو کی بیٹی روہنی آچاریہ کا بیان سامنے آیا ہے۔ اس حوالے سے انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک طویل پوسٹ کی ہے۔ انہوں نے لکھا کہ ’’مینڈیٹ لوٹنے کے بعد بنگال کو انارکی کی آگ میں جھونکنے پر آمادہ ہے۔ جیسے حالات ابھی بنگال میں ہیں اسے دیکھ کر تو یہی لگتا ہے کہ بنگال کو منی پور بنانے جا رہی ہے بی جے پی!
روہنی آچاریہ نے ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’دھاندلی سے حاصل جیت کے سبب پوری ریاست میں بھاجپائی غنڈوں کا ہنگامہ جاری ہے۔ ہزاروں کی تعداد میں مرکزی سیکورٹی فورسز کی موجودگی کے باوجود دہشت قائم کرنے کے مقصد سے شرپسندوں اور غنڈوں کو توڑ پھوڑ، آتش زنی، مار پیٹ اور لوٹ پاٹ کرنے کی کھلی چھوٹ دے دی گئی ہے۔‘‘ انہوں نے بی جے پی پر الزام عائد کرتے ہوئے لکھا کہ ’’بی جے پی بنگال کے باہر سے ہزاروں شرپسندوں کو ریاست میں لے کر آئی ہے اور اس کی ہدایت پر یہ لوگ ہنگامہ آرائی کر رہے ہیں۔ بنگال کے کولکاتہ، ہاوڑہ، سلی گوڑی اور جنوبی 24 پرگنہ جیسے شہروں میں ترنمول کانگریس کے دفاتر کو جلایا اور توڑا جا رہا ہے۔ جنوبی 24 پرگنہ میں ٹی ایم سی رکن پارلیمنٹ ابھیشیک بنرجی کے دفتر پر پتھراؤ، سابق وزیر اروپ وشواس کے دفتر میں توڑ پھوڑ کے واقعات کو شرپسندوں نے انجام دیا۔
اپنی پوسٹ میں روہنی آچاریہ مزید لکھتی ہیں کہ ’’شرپسند لوگ ترنمول کے حامیوں اور کارکنان کی شناخت کر ان کے ساتھ مار پیٹ کر رہے ہیں اور دھمکی دے رہے ہیں۔ مسلم اکثریتی علاقوں میں بڑی تعداد میں شرپسند اشتعال انگیز مذہبی نعرے لگاتے ہوئے اور گالی گلوچ کرتے ہوئے نظر آئے۔ ایسا لگتا ہے جیسے یہ شرپسند مسلم اکثریتی علاقوں میں مسلمانوں کو اکسا کر فساد بھڑکانے کی کوشش میں ہیں۔‘‘ روہنی آچاریہ کے مطابق مسلم اکثریتی علاقوں میں پولیس فورس کی تعیناتی، گشتی اور سختی تو دور کی بات پولیس پٹرولنگ پارٹی کی موجودگی بھی نہ کے برابر ہے۔ ویر بھوم ضلع میں ترنمول کانگریس کے لیڈر عبیر شیخ کا گلا ریت کر قتل کر دیا گیا ہے۔ بی جے پی شرپسندوں کی ٹولی کھلے عام سڑکوں پر ممتا بنرجی، ابھیشیک بنرجی اور سایونی گھوش سمیت ترنمول کے دیگر بڑے لیڈران کو گالی دیتے نظر آ رہے ہیں۔











