مرکزی حکومت نے چاندی کی درآمد کو لے کر بڑا فیصلہ کیا ہے۔ حکومت نے ہفتہ (16 مئی) کو چاندی کی درآمد کے لیے اپنی منظوری لازمی قرار دے دی ہے، جس سے اس دھات کو ’فری‘ سے ’ریسٹرکٹڈ‘ کیٹیگری میں ڈال دیا گیا ہے۔ دراصل اپریل میں سالانہ بنیادوں پر چاندی کی درآمد میں تقریباً 157 فیصد کا اضافہ ہوا تھا۔ یہ قدم حال ہی میں حکومت کی جانب سے سونے اور چاندی پر امپورٹ ڈیوٹی کو 6 فیصد سے بڑھا کر 15 فیصد کرنے کے بعد اٹھایا گیا ہے، تاکہ درآمدات کو کنٹرول کیا جا سکے اور توانائی و کھاد جیسی ضروری اشیاء کے لیے غیر ملکی زر مبادلہ بچایا جا سکے۔
دو طرح کے ایچ ایس کوڈ میں بُلین-گریڈ چاندی یا 99.9 فیصد یا اس سے زیادہ وزن والی سلور بارز اور دیگر اقسام کی سلور بارز شامل ہیں۔ ہارمونائزڈ سسٹم (ایچ ایس) کوڈ تجارتی مصنوعات کی درجہ بندی کا ایک نظام ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق ہفتے سے چاندی کی آزادانہ درآمد بند کر دی گئی ہے۔ اب کسی کو بھی اسے امپورٹ کرنے کے لیے حکومتی منظوری یا لائسنس کی ضرورت ہوگی۔
حکومت کا یہ حکم ہندوستان کے غیر ملکی زر مبادلہ کے ذخائر پر بڑھتے ہوئے دباؤ کے پیش نظر، غیر ضروری غیر ملکی دوروں سے بچنے اور ایک سال تک سونا نہ خریدنے کی اپیل کے چند دنوں بعد آیا ہے۔ ہندوستان کے پاس 690 ارب ڈالر سے زیادہ کا غیر ملکی زر مبادلہ کا ذخیرہ ہے، جو 10 مہینوں کی درآمدات کو پورا کرنے کے لیے کافی ہے۔ حالانکہ حکومت احتیاط برت رہی ہے کیونکہ جنگ طویل ہو سکتی ہے۔ خاص طور پر سونے اور چاندی کی درآمد سے ذخائر پر کافی دباؤ پڑ رہا ہے۔

















