بہار کی سمراٹ چودھری کی قیادت والی بی جے پی حکومت میں کابینہ توسیع اور محکموں کی تقسیم کے بعد سابق وزیر اعلیٰ نتیش کمار کے بیٹے نشانت کمار نے باضابطہ طور پر اقتدار کی سیاست میں انٹری حاصل کر لی ہے۔ طویل عرصے تک سیاسی سرگرمیوں سے دور رہنے والے نشانت کمار کو ریاست کا نیا وزیر صحت بنایا گیا ہے۔ ان کی تقرری کے فوراً بعد آر جے ڈی نے جے ڈی یو اور بی جے پی پر کنبہ پروری کو لے کر طنزیہ حملہ شروع کر دیا ہے۔
خیال رہے کہ نشانت کمار اس وقت بہار اسمبلی یا قانون ساز کونسل، کسی بھی ایوان کے رکن نہیں ہیں، لیکن آئینی ضابطے کے مطابق انہیں چھ ماہ کے اندر کسی ایک ایوان کی رکنیت حاصل کرنا ہوگی۔ سیاسی حلقوں میں ان کی تقرری کو نتیش کمار کے ممکنہ سیاسی جانشین کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔
نشانت کمار کی وزارت کو لے کر سب سے زیادہ بحث اس لیے ہو رہی ہے کیونکہ جے ڈی یو اور بی جے پی برسوں سے لالو یادو خاندان پر کنبہ پروری کے الزامات عائد کرتی رہی ہیں۔ اب آر جے ڈی نے اسی معاملے پر پلٹ وار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جو جماعتیں خاندانی سیاست کے خلاف تقریریں کرتی تھیں، وہ خود اقتدار میں اپنے خاندان کو آگے لا رہی ہیں۔
آر جے ڈی نے سوشل میڈیا پوسٹ میں طنزیہ انداز اپناتے ہوئے نشانت کمار کو وزیر بننے پر مبارکباد دی اور لکھا کہ ’عوامی جدوجہد‘ کے بعد انہیں وزارت ملی ہے۔ پارٹی نے طنز کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ برسوں تک دوسروں پر کنبہ پروری کا الزام لگانے والے اب خود اسی راستے پر چل پڑے ہیں۔
آر جے ڈی نے لکھا، ’’تقریباً 500 برسوں سے زمین پر جدوجہد کرنے والے اور 140 کروڑ ووٹ لے کر آنے والے نشانت کمار کو وزیر بننے پر مبارکباد۔” پارٹی نے اس کے ذریعے جے ڈی یو اور بی جے پی پر کنبہ پروری کا الزام دہرایا۔
سیاسی مبصرین اس تقرری کو نتیش کمار کی مستقبل کی حکمت عملی سے بھی جوڑ کر دیکھ رہے ہیں۔ حالیہ سیاسی تبدیلیوں اور نتیش کمار کے استعفیٰ کے بعد بہار کی سیاست میں نئی صف بندی سامنے آئی ہے، جس میں سمراٹ چودھری وزیر اعلیٰ بنے ہیں جبکہ جے ڈی یو اور بی جے پی نے اقتدار کی نئی شراکت داری قائم کی ہے۔












