پارلیمنٹ کا بجٹ اجلاس جاری ہے اور موجودہ اجلاس کا دوسرا مرحلہ بھی اب اپنے آخری دور میں پہنچ چکا ہے۔ تاہم پچھلے اجلاس کی طرح اس بار بھی یہ اجلاس ہنگامہ کی وجہ سے باقاعدہ طور پر نہیں چل سکا۔ اس کا اثر آئینی امور پر بھی پڑا ہے۔ اب مرکزی حکومت نے اپوزیشن کے سامنے یہ تجویز رکھی ہے کہ کئی سرکاری تعطیلات کے باعث ہفتہ اور اتوار کو بھی اجلاس بلایا جانا چاہیے۔
حکومت نے اپوزیشن کے سامنے جو تجویز پیش کی ہے، اس میں ذکر کیا گیا ہے کہ ہفتہ اور اتوار کو بھی پارلیمانی اجلاس بلانا اہم ہے تاکہ قانون سازی سے متعلق کام وقت پر مکمل کیا جا سکے۔ حکومت نے بتایا کہ ماہ کے آخر میں آنے والے ہفتہ یعنی 28 اور 29 مارچ (ہفتہ اور اتوار) کو بھی پارلیمنٹ کا اجلاس بلانے کی تجویز ہے، جس میں کئی اہم بلوں پر غور کیا جا سکتا ہے۔
درحقیقت مارچ ماہ میں گڑی پرو، اگاڑی، عیدالفظر اور رام نومی کی وجہ سے کئی سرکاری تعطیلات پڑ رہی ہیں، اسی لیے کام نمٹانے کے لیے ویک اینڈ پر ایوان کا اجلاس بلانے کی تجویز دی گئی ہے۔ اراکین پارلیمنٹ کے ہنگاموں کی وجہ سے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کی کارروائی خاصی متاثر ہوئی ہے، جس کا ازالہ ہفتہ اور اتوار کو کیے جانے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔
واضح رہے کہ پارلیمنٹ کا بجٹ اجلاس دو مرحلوں میں ہو رہا ہے۔ یہ اجلاس 2 اپریل تک جاری رہنے والا ہے۔ اجلاس کا پہلا مرحلہ 28 جنوری سے 13 فروری تک چلا، جب کہ دوسرا مرحلہ 9 مارچ سے 2 اپریل تک جاری رہے گا۔ اراکین پارلیمنٹ کے ہنگامہ کے سبب آج جمعہ کو بھی پارلیمنٹ کی کارروائی متاثر رہی۔ اس دوران لوک سبھا اسپیکر اوم برلا نے ہنگامہ کر رہے اپوزیشن اراکین سے سوالیہ وقفہ چلنے دینے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ’’آپ کہتے ہیں کہ بولنے کا موقع نہیں ملتا۔ جب آپ کو بات رکھنے کا وقت اور موقع دیا جاتا ہے تو آپ بولنا ہی نہیں چاہتے۔ آپ ایوان میں تعطل پیدا کرنا چاہتے ہیں، جو پارلیمانی روایات کے مطابق نہیں ہے۔
















