پریاگ راج ماگھ میلے میں شنکراچاریہ ایوی مکتیشورانند نے مونی اماوسیہ پر اسنان سے انکار کر دیا ہے۔ انہوں نے اپنی پالکی کو درمیان میں ہی اکھاڑہ واپس کر دی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ جب وہ اپنی پالکی میں اکھاڑے سے نکل کر سنگم کی طرف جا رہے تھے تبھی ان کے شاگردوں کے ساتھ اتر پردیش حکومت کے ہوم سکریٹری نے دھکا مکی شروع کردی جس کے بعد وبال مچ گیا اور شنکراچاریہ ایوی مکتیشورانند نے اسنان کرنے سے ہی انکار کر دیا۔
شنکراچاریہ ایوی مکتیشورانند نے ’آج تک‘ سے کہا کہ ان کے شاگردوں سے مار پیٹ کی جارہی ہے، افسران مارنے کا اشارہ کررہے ہیں اس لئے اسنان نہیں کروں گا۔ آپ کو بتادیں کہ مونی اماوسیہ کے موقع پر سنگم نگری پریاگ راج میں عقیدتمندوں کا سیلاب امڈ پڑا ہے۔ اس موقع پر ہجوم پر قابو پانے کے لیے پولیس فورس تعینات ہے۔ پولیس افسر رات سے کنٹرول روم سے کر سنگم کے ساحل تک گشت کر رہے ہیں۔
سنگم کے ساحل پر شنکراچاریہ ایوی مکتیشورانند کے شاگردوں کے ساتھ مارپیٹ کا ایک ویڈیو بھی منظرعام پر آیا ہے۔ اس میں دکھایا گیا ہے کہ شنکراچاریہ ایوی مکتیشورانند اپنی پالکی کو سنگم کنارے پر لے جا رہے ہوتے ہیں، ان کے ساتھ ان کے شاگردوں کی ایک بڑی تعداد بھی ہے۔ اس دوران ان کے شاگردوں اور یوپی حکومت کے ہوم سکریٹری اور کئی پولیس والوں کے درمیان دھکا مکی بھی کی گئی جس کے بعد ایوی مکتیشورانند نے اسنان سے انکار کر دیا۔ حالانکہ پولیس کا کہنا ہے کہ ایوی مکتیشورانند کے شاگرد ایک ساتھ سنگم پر جارہے تھے جبکہ انہیں ٹکڑوں میں جانے کے لئے کہا جارہا تھا کیونکہ بھیڑ بہت زیادہ تھی ایسے میں حالات خراب ہونے کا اندیشہ تھا۔


















