یہ پورا معاملہ دہلی یونیوسٹی کے ساؤتھ کیمپس کے پاس واقع ستیہ نکیتن علاقے سے جڑا ہے، جہاں 5 منزلہ ایک پی جی عمارت گر گئی تھی۔ اس حادثہ میں 7 لوگوں کی جان چلی گئی ہے۔ معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے سپریم کورٹ نے ایمکس کیوری اجیت سنہا کو مقرر کیا تھا، جنہوں نے اب اپنی اسٹیٹس رپورٹ عدالت میں پیش کر دی ہے۔ رپورٹ میں سب سے اہم سفارش یہ ہے کہ دہلی کے تمام کالجوں اور یونیورسٹیوں کے آس پاس بنے پی جی، پرائیویٹ ہاسٹل اور طلبہ کے رہنے کی جگہوں کا مکمل سیکورٹی آڈٹ کرایا جائے۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ستیہ نکیتن علاقے میں ایسے واقعات پہلے بھی پیش آ چکے ہیں، جیسے اپریل 2022 میں بھی ایک عمارت گری تھی۔ بار بار ہونے والے ان حادثوں نے یہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ یہاں ضوابط کو صحیح طریقے سے نافذ کیوں نہیں کیا جا رہا۔
واضح رہے کہ مجوزہ جانچ میں عمارت کا نقشہ، تعمیر کا معیار، بیسمنٹ کا استعمال کیسے ہو رہا ہے، ڈھانچہ کتنا مضبوط ہے، آگ سے بچاؤ کے انتظامات اور ہنگامی صورتحال میں باہر نکلنے کے راستے جیسی چیزوں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا۔ دوسری جانب دہلی ہائی کورٹ بھی اس معاملے میں سخت موقف اختیار کر چکا ہے۔ چیف جسٹس دیویندر کمار اپادھیائے اور جسٹس تیجس کریا کی بنچ نے 7 افراد کی موت پر افسوس کا اظہار کیا اور ایم سی ڈی اور دہلی یونیورسٹی کو سخت پھٹکار لگائی۔ ہائی کورٹ نے مرکزی حکومت، دہلی حکومت، پولیس اور ایم سی ڈی سے 10 دن کے اندر جواب طلب کیا ہے۔ آئندہ سماعت 25 ستمبر 2026 کو ہوگی۔

















