منی پور سے تعلق رکھنے والے ریٹائرڈ میوزک ٹیچر کا گزشتہ دنوں دہلی میں کچھ لوگوں نے پیٹ پیٹ کر قتل کر دیا۔ اس واقعہ کے بعد مرکز کی مودی حکومت اپوزیشن کے نشانے پر ہے۔ کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے اس بہیمانہ قتل واقعہ پر مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کو ہدف تنقید بنایا ہے اور یہ الزام عائد کیا ہے کہ دہلی ان کی نگرانی میں جرائم کی راجدھانی بن چکی ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری ایک پوسٹ میں کھڑگے نے کہا ہے کہ ’’منی پور کے معروف موسیقار چونگتھم وکرم سنگھ جی کو ایک ہجوم کے ہاتھوں بے رحمی سے پیٹ پیٹ کر قتل کیا جانا، بی جے پی کے دور میں مکمل لاقانونیت کی ایک اور خوفناک یاد دہانی ہے۔ طلبا محفوظ نہیں ہیں، خواتین کو ہر روز مظالم کا سامنا ہے، شمال مشرقی ہندوستان کے لوگوں کو امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ دلت، آدیواسی اور اقلیتیں انتہائی غیر محفوظ اور خطرات سے دوچار ہیں۔‘‘ امت شاہ پر حملہ کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ ’’وزیر داخلہ امت شاہ کی نگرانی میں دہلی جرائم کی راجدھانی بن گئی ہے۔ این سی آر بی کے اعداد و شمار کے مطابق قومی راجدھانی میں جرائم کی سطح سال در سال سب سے زیادہ درج کی جا رہی ہے۔
منی پوری موسیقار وکرم سنگھ کی موت پر کھڑگے نے ان کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار بھی کیا۔ انھوں نے سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا ہے کہ ’’غم زدہ خاندان کے ساتھ میری گہری تعزیت ہے۔ وہ انصاف کے حق دار ہیں اور اس کے ذمہ دار لوگوں کے خلاف سخت ترین کارروائی ہونی چاہیے۔‘‘ ساتھ ہی انھوں نے لکھا کہ ’’مودی حکومت کی نااہلی نے منی پور کے لوگوں کو اپنی ریاست کے اندر اور اس کے باہر بھی مصائب برداشت کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔


















