ہندوستان کی بیشتر ریاستوں میں ان دنوں شدید گرمی پڑ رہی ہے۔ ساتھ ہی لُو کے قہر نے لوگوں کا برا حال کر دیا ہے۔ محکمۂ موسمیات (آئی ایم ڈی) کے مطابق اتر پردیش، دہلی، اڈیشہ، راجستھان سمیت کئی ریاستوں میں درجۂ حرارت 44 ڈگری سے تجاوز کر چکا ہے۔ تاہم محکمۂ موسمیات نے ایک راحت کی خبر بھی دی ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق 28 اپریل سے مغربی اضطراب کے اثر سے موسم میں تبدیلی کا امکان ہے۔ آندھی، طوفان اور بارش کے آثار پیدا ہو رہے ہیں، جس سے لوگوں کو کچھ راحت مل سکتی ہے۔
ملک کی راجدھانی دہلی میں اتوار کو زیادہ سے زیادہ درجۂ حرارت 42.1 ڈگری سیلسیس درج کیا گیا، جو معمول سے زیادہ ہے۔ آئی ایم ڈی نے پیر کے لیے یلو الرٹ جاری کرتے ہوئے لُو جیسی صورتحال کی وارننگ دی ہے۔ آج دہلی کا زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 44 ڈگری سیلسیس اور کم از کم 27 ڈگری سیلسیس رہنے کی امید ہے۔ موسم خشک رہے گا اور دن میں تیز رہے گی۔ دوپہر بعد لُو چلنے کا اندیشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ آئی ایم ڈی کے مطابق ایک نیا مغربی اضطراب (ویسٹرن ڈسٹربنس) فعال ہو رہا ہے، جس کے سبب آئندہ 48 گھنٹے میں موسم تبدیل ہوگا۔ اس درمیان مرکزی آلودگی کنٹرول بورڈ کے مطابق فضائی معیار کا اشاریہ 222 درج کیا گیا، جو خراب زمرے میں آتا ہے۔
اتر پردیش کے بیشتر اضلاع میں اتوار کو شدید گرمی درج کی گئی۔ راجدھانی لکھنؤ میں زیادہ سے زیادہ درجۂ حرارت 44 ڈگری سیلسیس رہا، جو معمول سے 3.5 ڈگری زیادہ ہے۔ وہیں باندہ ریاست کا سب سے گرم مقام رہا، جہاں پارہ 46.6 ڈگری سیلسیس تک پہنچ گیا۔ پریاگ راج میں 45.7 ڈگری سیلسیس درجۂ حرارت درج کیا گیا۔ محکمۂ موسمیات نے 27 اپریل تک لُو کا اثر جاری رہنے کا امکان ظاہر کیا ہے، جبکہ 28 اپریل سے گرج چمک، تیز ہواؤں اور بارش کا امکان ہے۔ مغربی اتر پردیش میں بارش کے امکانات زیادہ ہیں، جبکہ مشرقی حصوں میں موسم خشک رہ سکتا ہے۔
پنجاب اور ہریانہ میں بھی گرمی ریکارڈ توڑ رہی ہے۔ بیشتر اضلاع میں درجۂ حرارت 44 ڈگری سے تجاوز کر رہا ہے۔ دوپہر 12 بجے سے دیر شام تک گرم ہوائیں چل رہی ہیں۔ لُو کے تھپیڑوں نے لوگوں کا برا حال کر دیا ہے۔ ہریانہ کے روہتک، پانی پت، فرید آباد سمیت کئی اضلاع میں گرمی نے لوگوں کو بے حال کر رکھا ہے۔ یہی حال پنجاب کے بیشتر اضلاع کا بھی ہے۔
















