عآپ میں بڑی پھوٹ کے بعد پنجاب کے وزیر اعلیٰ بھگونت مان نے صدر جمہوریہ سے ملاقات کے لیے وقت طلب کیا ہے۔ بھگونت مان اپنی پارٹی کے 7 اراکین پارلیمنٹ کے پارٹی چھوڑنے پر ناراض ہیں۔ ذرائع کے مطابق وہ صدر کے سامنے پنجاب کے راجیہ سبھا اراکین کو واپس بلانے (ریکال) کے معاملے پر اپنا مؤقف پیش کرنا چاہتے ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ وزیر اعلیٰ بھگونت مان پنجاب کے پارٹی اراکین اسمبلی کے ساتھ صدر سے ملاقات کر سکتے ہیں۔ اس دوران وہ بی جے پی میں شامل ہونے والے پنجاب کے راجیہ سبھا اراکین کو ریکال کرنے کے حوالے سے اپنا مؤقف رکھیں گے۔
قابل ذکر ہے کہ عام آدمی پارٹی میں پھوٹ اس وقت کھل کر سامنے آئی جب راگھو چڈھا، اشوک متل اور سندیپ پاٹھک نے ایک پریس کانفرنس میں پارٹی چھوڑنے کا اعلان کر دیا۔ انہوں نے جمعہ کو عام آدمی پارٹی سے استعفیٰ دے کر بی جے پی میں شامل ہونے کا اعلان کیا۔ اس کے ساتھ ہی راگھو چڈھا نے ہربھجن سمیت مزید 4 اراکین پارلیمنٹ کے نام بھی بتائے جنہوں نے عآپ چھوڑ دی۔
پریس کانفرنس کے بعد راگھو چڈھا، اشوک متل اور سندیپ پاٹھک بی جے پی کے دفتر پہنچے اور باضابطہ طور پر پارٹی کی رکنیت حاصل کی۔ بی جے پی کے قومی صدر نتن نوین نے انہیں رکنیت دلائی۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے 4 دیگر راجیہ سبھا اراکین ہربھجن سنگھ، سواتی مالیوال، وکرم ساہنی اور راجندر گپتا کا پارٹی میں استقبال کیا۔
وزیر اعلیٰ بھگونت مان نے عآپ چھوڑنے والے تمام اراکین پارلیمنٹ کی مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ’’ہم پارٹی چھوڑنے والوں اور انہیں اپنی پارٹی میں شامل کرنے والوں، دونوں کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔‘‘ انھوں نے جمعہ کے روز اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ ’’پارٹی کسی بھی فرد سے بڑی ہوتی ہے۔ جو اراکین پارلیمنٹ پارٹی چھوڑ کر گئے ہیں، وہ پنجاب کی نمائندگی نہیں کرتے۔ جب انہیں بھگونت مان کے خلاف کچھ نہیں ملا تو انہوں نے عآپ کو توڑنے کی کوشش کی۔ بی جے پی دوسری پارٹیوں کے لیے رکاوٹیں پیدا کرتی ہے۔















