سبریمالہ مندر میں خواتین کے داخلے سے متعلق عرضی پر سپریم کورٹ میں 9 ججوں کی بنچ سماعت کر رہی ہے۔ حالانکہ یہ عرضی ہندو خواتین سے جڑی ہوئی ہے، لیکن جاری بحث میں دیگر مذاہب کی خواتین کو مذہبی مقامات پر دیے جانے والے حقوق پر بھی گفتگو ہوئی۔ اسی دوران مسلم خواتین کے مسجد میں نماز ادا کرنے کے حوالے سے سپریم کورٹ کے جسٹس امان اللہ نے سوال کیا کہ ’’اگر سب لوگ نماز کے لیے مسجد جانے لگیں تو بچوں کی دیکھ بھال کون کرے گا؟‘‘ انہوں نے وضاحت کی کہ اسلام میں خواتین کے گھر پر نماز ادا کرنے کو ترجیح دینے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اگر خاندان کا ہر فرد، یعنی خواتین بھی مسجد چلی جائیں، تو بچوں کی دیکھ بھال میں پریشانی ہو جائے گی۔
ہندی نیوز پورٹل ’ٹی وی 9 بھارت وَرش‘ پر شائع ایک رپورٹ کے مطابق جسٹس امان اللہ نے اپنی بات رکھتے ہوئے کہا کہ سبھی کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ پیغمبر (محمد صلی اللہ علیہ وسلم) کے زمانے سے ہی مساجد میں خواتین کے نماز پڑھنے پر کوئی پابندی نہیں تھی، البتہ اسلام میں کچھ طریقے اور اصول ہیں جو یہ طے کرتے ہیں کہ وہ کس طرح نماز ادا کریں۔ انھوں نے یہ بات اس وقت کہی جب اسی معاملے میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے سینئر وکیل ایم آر شمشاد نے دلیل دی کہ مسلم خواتین کے لیے نماز کے لیے الگ جگہ دینے کی روایت پر کوئی عدالت سوال نہیں اٹھا سکتی۔ ایڈووکیٹ شمشاد نے کہا کہ مساجد میں خواتین کے نماز پڑھنے پر کوئی پابندی نہیں ہے، تاہم یہ بہتر ہے کہ وہ اپنے گھروں میں نماز ادا کریں۔
قابل ذکر ہے کہ سبریمالہ مندر میں خواتین کے داخلے پر بحث اس لیے ہو رہی ہے کیونکہ یہ ’عقیدہ بمقابلہ بنیادی حقوق‘ کا معاملہ ہے۔ اس حوالے سے ایڈووکیٹ شمشاد نے کہا کہ 9 ججوں کی اس بنچ کو 1994 کے سپریم کورٹ کے اس فیصلے کو منسوخ کر دینا چاہیے جو اسماعیل فاروقی مقدمہ (رام جنم بھومی معاملے سے متعلق) میں دیا گیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ نماز کے لیے مسجد کا ہونا ضروری نہیں ہے۔














