’نیٹ یو جی‘ پیپر لیک کے بعد امتحان کو منسوخ کر دیا گیا ہے۔ اس معاملے پر کانگریس کی راجیہ سبھا رکن رنجیت رنجن کا سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر پوسٹ کر مرکزی حکومت پر جم کر حملہ بولا ہے۔ رنجیت رنجن اپنی ’ایکس‘ پوسٹ پر لکھتی ہیں کہ ’’22 لاکھ سے زائد بچے سال بھر دن و رات پڑھتے ہیں، لیکن ایک پیپر لیک ان کی محنت پر پانی پھیر دیتا ہے۔
کانگریس راجیہ سبھا رکن رنجیت رنجن اپنی پوسٹ میں مزید لکھتی ہیں کہ ’’یہ پہلی بار نہیں ہے، گزشتہ 10 سال میں 89 پیپر لیک کا معاملہ سامنے آیا اور 48 بار دوبارہ امتحان ہوا۔‘‘ انہوں نے حکومت سے سوال کیا کہ ’’آخر کب تک حکومت تحقیقات کے نام پر صرف خانہ پوری کرتی رہے گی؟ ہر بار وہی وعدے اور پھر وہی خاموشی۔
رنجیت رنجن کے علاوہ بہار کے کٹیہار سے کانگریس رکن پارلیمنٹ طارق انور کا بھی ’نیٹ یو جی‘ امتحان منسوخ ہونے پر سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’نیٹ کے امیدواروں کے ساتھ ہونے والی ناانصافی ناقابل قبول ہے۔ لاکھوں خاندانوں نے اپنے بچوں کے خوابوں کو پورا کرنے کے لیے قرض لیا، زیورات بیچے اور دن و رات محنت کی۔ اگر نظام تعلیم میں پیپر لیک اور بدعنوانی حاوی رہیں گے تو پھر قابلیت کی کیا قیمت رہ جائے گی۔















