نئی دہلی: مغربی ایشیا میں ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے عالمی معیشت پر ممکنہ اثرات کے بیچ وزیر اعظم نریندر مودی نے 24 گھنٹے کے اندر دوسری مرتبہ عوام سے احتیاط، بچت اور روزمرہ زندگی میں تبدیلیاں لانے کی اپیل کی ہے۔ گجرات کے وڈودرا میں سردار دھام ہاسٹل کے افتتاح کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ موجودہ عالمی حالات کو دیکھتے ہوئے ملک کے عوام کو ایندھن کی بچت، غیر ضروری اخراجات میں کمی اور دیسی وسائل کے استعمال پر توجہ دینی چاہیے۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے خطاب میں خاص طور پر سونا خریدنے سے گریز کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ عالمی غیر یقینی صورتحال کے دوران لوگوں کو غیر ضروری خریداری مؤخر کرنی چاہیے تاکہ معاشی دباؤ کم رہے۔ ان کا یہ بیان سوشل میڈیا اور سیاسی حلقوں میں تیزی سے زیر بحث آ گیا، کیونکہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران یہ دوسری بار تھا جب وزیر اعظم نے عوام سے احتیاطی اقدامات اپنانے کی بات کی۔
انہوں نے ایندھن کی کھپت کم کرنے کے لیے کار پولنگ کو فروغ دینے، عوامی ٹرانسپورٹ کے استعمال میں اضافہ کرنے اور جہاں ممکن ہو وہاں ورک فرام ہوم اپنانے کی اپیل بھی کی۔ وزیر اعظم نے کہا کہ آج ڈیجیٹل ٹیکنالوجی نے زندگی کو آسان بنا دیا ہے، اس لیے دفاتر میں زیادہ سے زیادہ ورچوئل میٹنگس منعقد کی جا سکتی ہیں تاکہ غیر ضروری سفر کم ہو۔ انہوں نے تعلیمی اداروں سے بھی آن لائن کلاسوں پر غور کرنے کی اپیل کی۔
اپنے خطاب میں وزیر اعظم نے کسانوں کو بھی مخاطب کیا اور کیمیائی کھادوں پر انحصار کم کرنے کی بات کہی۔ انہوں نے قدرتی کھیتی کو فروغ دینے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ عالمی حالات میں مقامی وسائل اور خود انحصاری کی پالیسی ملک کے لیے زیادہ فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے بیرون ملک ڈیسٹینیشن ویڈنگ کے بجائے ہندوستان میں ہی شادیوں کے انعقاد کی اپیل بھی کی اور کہا کہ ہندوستان میں ہر طرح کی سہولت اور خوبصورتی موجود ہے۔

















