مہاراشٹر میں آٹو اور ٹیکسی چلانے والوں کے لیے مراٹھی زبان کو لازمی قرار دیے جانے کے معاملے پر سیاسی بحث نے زور پکڑ لیا ہے۔ اب اس معاملے میں شیوسینا (یو بی ٹی) کے راجیہ سبھا رکن سنجے راؤت کا بیان سامنے آیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اصول کسی ایک ریاست کے لیے نہیں بلکہ پورے ملک میں مقامی زبان کے احترام کے لیے ہونا چاہیے۔ سنجے راؤت کے مطابق جیسے مغربی بنگال میں بانگلہ، گجرات میں گجراتی، کرناٹک میں کنڑ اور پنجاب میں پنجابی زبان ضروری ہے تو مہاراشٹر میں مراٹھی زبان کو لازمی قرار دیے جانے سے دقت کیوں؟
شیوسینا (یو بی ٹی) کے راجیہ سبھا رکن نے کہا کہ اگر مہاراشٹر میں مقامی زبان کو ضروری بنایا جا رہا ہے تو اس میں کوئی مسئلہ نہیں ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق کچھ لوگ ووٹ بینک کی سیاست کے باعث مراٹھی زبان کی مخالفت کر رہے ہیں جو صحیح نہیں ہے۔ سنجے راؤت نے یہ بھی کہا کہ یہ اصول ڈرائیوروں کے خلاف نہیں بلکہ ان کے اپنے فائدے کے لیے ہے۔ اپنے بیان میں انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اگر آٹو اور ٹیکسی چلانے مراٹھی زبان سمجھیں گے تو انہیں مقامی لوگوں سے بات چیت کرنے اور کام کرنے میں آسانی ہوگی۔
واضح رہے کہ یہ لسانی تنازعہ تب شروع ہوا جب 14 اپریل کو مہاراشٹر میں پبلک ٹرانسپورٹ خدمات کے معیار اور مسافروں کی سہولیات کو بہتر بنانے کی سمت میں ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے وزیر ٹرانسپورٹ پرتاپ نائک نے 27 اپریل کو اعلان کیا تھا کہ یکم مئی، ’مہاراشٹر دیوس‘ سے تمام لائسنس یافتہ رکشہ اور ٹیکسی چلانے والوں کے لیے مراٹھی زبان کا جاننا ضروری ہوگا۔















