سماجوادی پارٹی کی لوک سبھا رکن پارلیمنٹ اقرا حسن نے گھریلو گیس کی مسلسل بڑھتی قیمتوں کو لے کر مرکزی حکومت پر سخت تنقید کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مہنگائی کی وجہ سے عام لوگوں کے لیے گیس سلنڈر خریدنا مشکل ہوتا جا رہا ہے اور کئی علاقوں میں اس کی دستیابی بھی مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو فوری طور پر اس مسئلے پر توجہ دینی چاہیے کیونکہ اس کا براہ راست اثر عام گھروں کے خرچ پر پڑ رہا ہے۔
اقرا حسن نے طنزیہ انداز میں کہا کہ جس طرح وزیر اعظم لاپتہ ہو گئے ہیں اسی طرح گیس سلنڈر بھی لوگوں کی رسائی سے دور ہوتا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق مہنگائی کا سب سے زیادہ اثر غریب اور متوسط طبقے پر پڑ رہا ہے، جن کے لیے گھر کا بجٹ سنبھالنا دن بہ دن مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گھریلو گیس کی قیمت میں اضافہ گھریلو اخراجات کو بری طرح متاثر کر رہا ہے اور لوگ سخت پریشانی کا سامنا کر رہے ہیں۔
اسی گفتگو کے دوران اقرا حسن نے سنبھل کے سی او کے حالیہ بیان پر بھی سخت ردعمل ظاہر کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے بیانات معاشرے میں تناؤ پیدا کرنے کا سبب بن سکتے ہیں اور اس سے امن و امان کی صورتحال متاثر ہو سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اس بیان کی مذمت کرتی ہیں اور یہ کوشش معاشرے کے امن و سکون کو متاثر کرنے والی ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ بعض افسران حکومت کے دباؤ میں اس طرح کے بیانات دے رہے ہیں جس سے ماحول کو خراب کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق انتظامیہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ معاشرے میں ہم آہنگی اور امن کو برقرار رکھے لیکن اگر کوئی افسر اپنے عہدے کا غلط استعمال کرتا ہے تو اس کے خلاف کارروائی ضروری ہے۔
اقرا حسن نے اس معاملے میں متعلقہ افسر کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ بھی کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی افسر کے بیان یا اقدام سے سماجی کشیدگی پیدا ہو رہی ہے تو حکومت کو فوری قدم اٹھانا چاہیے۔ انہوں نے عدالت سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ اس معاملے کا نوٹس لے تاکہ ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی ہو سکے۔
















