اتر پردیش کے مہوبا میں گائے بچھڑوں کی مشتبہ اموات کے معاملے نے طول پکڑ لیا ہے۔ گوشالاؤں میں سینکڑوں گایوں کی موت سے مشتعل ہندو تنظیموں نے آج کلکٹریٹ کا گھیراؤ کیا۔ شیو سینا، وی ایچ پی اور بجرنگ دل کے کارکنوں نے گائے کے بچھڑوں کی ہڈیوں کی تجارت کرنے کے سنگین الزامات لگاتے ہوئے جم کرنعرے بازی کی۔ احتجاج کے دوران ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ (اے ڈی ایم) کے ساتھ تلخ نوک جھونک بھی ہوئی وہیں فون نہ اٹھانے پر ڈی ایم کے خلاف قابل اعتراض تبصرے بھی کئے گئے جس کے بعد علاقے میں کشیدگی پھیل گئی ہے۔ مظاہرین نے قصوروار افسران پرایف آئی آر درج کرکےانہیں جیل بھیجنے کا مطالبہ کیا ہے۔
اس واقعہ سے بندیل کھنڈ کے مہوبہ میں گائے کے تحفظ کے دعووؤں کی قلعی کھلتی نظر آرہی ہے۔ ضلع کی گوشالاؤں میں سینکڑوں گائے کے بچھڑوں کی مشتبہ اموات کے ضلع کی ہندو تنظیمیں سڑک پر اترآئیں ہیں۔ شیوسینا، وی ایچ پی اور بجرنگ دل سمیت تمام تنظیموں کے کارکنوں نے آج کلکٹریٹ کے احاطے میں زبردست احتجاج کیا۔ کارکنان کا براہ راست الزام ہے کہ ضلع انتظامیہ اور گرام پردھانوں کی ساز باز سے گوشالاؤں میں موجود گائے کے بچھڑوں کا کوئی پُرسان حال نہیں ہے۔
احتجاج کے دوران ماحول اس وقت انتہائی کشیدہ ہو گیا جب اے ڈی ایم کنور پنکج میمورنڈم لینے پہنچے۔ یہاں ہندو رہنماؤں اور اے ڈی ایم کے درمیان براہ راست اور تلخ نوک جھونک دیکھنے کو ملی۔ مظاہرین نے ضلع مجسٹریٹ کے رویہ پر بھی سخت برہمی کا اظہار کیا۔ الزام لگایا گیا ہے کہ درجنوں کال کرنے کے باوجود ڈی ایم نے فون نھیں اُٹھایا، جس کی وجہ سے مشتعل مظاہرین نے ضلع مجسٹریٹ کے خلاف قابل اعتراض زبان کا استعمال کرتے ہوئے ان پر صرف معائنہ کے نام پر’ فوٹو کھیچنوانے‘ کا الزام لگایا۔


















