نئی دہلی: مرکزی حکومت نے آدھار کارڈ کے ڈیزائن میں مبینہ تبدیلی سے متعلق گردش کرنے والی خبروں اور سوشل میڈیا پوسٹس کو صاف طور پر مسترد کر دیا ہے۔ حکومت نے واضح کیا ہے کہ آدھار کے فارمیٹ میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کا نہ تو کوئی فیصلہ لیا گیا ہے اور نہ ہی ایسا کوئی منصوبہ فی الحال زیر غور ہے۔
الیکٹرانکس اور اطلاعاتی ٹیکنالوجی کی وزارت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ کچھ میڈیا رپورٹس اور سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ جلد ہی آدھار کارڈ کو ایک نہایت سادہ شکل میں متعارف کرایا جائے گا، جس میں صرف تصویر اور کیو آر کوڈ شامل ہوگا۔ وزارت نے ان دعوؤں کو مکمل طور پر بے بنیاد اور گمراہ کن قرار دیا ہے۔
وزارت کے مطابق، اس طرح کی خبریں عوام کے درمیان غیر ضروری ابہام پیدا کر رہی ہیں اور لوگوں کو غلط معلومات فراہم کر رہی ہیں۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ وقتاً فوقتاً اس نوعیت کی افواہیں سامنے آتی رہتی ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ آدھار کے موجودہ نظام میں کسی بڑے ڈھانچہ جاتی تبدیلی کی کوئی تجویز موجود نہیں ہے۔
حکومت نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ صرف مستند اور تصدیق شدہ ذرائع سے حاصل ہونے والی معلومات پر ہی اعتماد کریں۔ اس ضمن میں خاص طور پر آدھار جاری کرنے والے ادارے اور سرکاری پریس ریلیز کو قابل بھروسہ قرار دیا گیا ہے۔ ساتھ ہی میڈیا اداروں سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ غیر مصدقہ اطلاعات کو پھیلانے سے گریز کریں۔
















