پٹنہ: بہار اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف تیجسوی پرساد یادو نے ’ریشو شری ٹینڈر گھوٹالہ‘ کو لے کر ریاست کی این ڈی اے حکومت پر سخت حملہ کرتے ہوئے 20 سوالات اٹھائے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ہزاروں کروڑ روپے کے اس گھوٹالے میں صرف نچلے درجے کے افسران کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے، جبکہ اعلیٰ افسران اور سیاسی سرپرستی حاصل افراد کو بچانے کی کوشش ہو رہی ہے۔
تیجسوی یادو نے پیر کو جاری اپنے بیان میں کہا کہ ایک عام ٹھیکیدار برسوں تک مختلف سرکاری محکموں کے ٹینڈروں پر اثر انداز کیسے ہوتا رہا اور سرکاری نگرانی کا نظام اس دوران کیا کرتا رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر تفتیشی ایجنسیوں کے سامنے آئے چیٹ ریکارڈ درست ہیں تو اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملزم کو اعلیٰ سطح کی سرپرستی حاصل تھی، اس لیے یہ بھی واضح ہونا چاہیے کہ وہ کس کے اشارے پر افسران کو ہدایات دیتا تھا۔
انہوں نے الزام لگایا کہ دو آئی اے ایس افسران کی معطلی کے باوجود نہ ان کی گرفتاری ہوئی اور نہ ہی ان کے نام چارج شیٹ میں شامل کیے گئے۔ تیجسوی یادو کے مطابق جانچ میں یہ دعویٰ سامنے آیا ہے کہ سرکاری بل منظور کرانے اور ٹینڈر دلانے کے عوض دو سے ساڑھے تین فیصد تک کمیشن لیا جاتا تھا۔ اگر یہ الزام درست ہے تو حکومت کی "زیرو ٹالرنس” پالیسی پر سنگین سوالات کھڑے ہوتے ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ ریشو شری اور اس سے وابستہ تمام کمپنیوں کو ملنے والے سرکاری ٹینڈروں کی عدالتی نگرانی میں آزادانہ جانچ کرائی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کمپنیوں کے مالی لین دین، سرکاری معاہدوں اور دیگر ریاستوں، خصوصاً گجرات سے تعلق رکھنے والی کمپنیوں کے کردار کی بھی غیر جانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہئیں۔
تیجسوی یادو نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ چھاپوں کے دوران ملزم کے قبضے سے 99 جائیدادوں کے کاغذات، کروڑوں روپے نقد اور بڑی مقدار میں زیورات برآمد ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ایک ٹھیکیدار کے پاس اتنی بڑی دولت کہاں سے آئی اور حکومت کو اگر پہلے سے معاملے کی اطلاع تھی تو ایف آئی آر درج کرنے میں تاخیر کیوں کی گئی۔













