جموں و کشمیر کے پونچھ اور راجوری اضلاع میں پیر کے روز شدید بارش کے باعث لینڈ سلائیڈنگ کی زد میں آنے سے ایک خاتون اور اس کے 2 بچوں سمیت کم از کم 11 افراد ہلاک ہو گئے، جبکہ 7 افراد لاپتہ ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ریاست میں بارش کی تباہ کاریوں کے باعث گزشتہ 2 دنوں میں مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر 26 ہو گئی ہے۔ سیلاب سے متاثرہ پونچھ اور راجوری اضلاع میں مسلسل ہونے والی تیز بارش کی وجہ سے بچاؤ اور امدادی کاموں میں رکاوٹ آئی۔ افسران کے مطابق 7 افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پونچھ ضلع کے لوران کے بالائی علاقے میں شدید بارش کے باعث ہونے والی لینڈ سلائیڈنگ سے ایک کچا مکان گر گیا، جس کے ملبے تلے 2 بچوں سمیت 7 افراد زندہ دفن ہو گئے۔
افسران نے بتایا کہ گاؤں والوں نے ملبے سے 7 لاشیں نکالیں۔ ہلاک ہونے والوں کی شناخت زاہدہ بیگم (38)، ان کے 6 سالہ بیٹے منان رفیق، 4 سالہ بیٹی علیسا، تنویر احمد بھٹ (27)، شمیم اختر (33)، شبنم بانو (31) اور محمد عرفان (17) کے طور پر ہوئی ہے۔ یہ تمام افراد پونچھ ضلع کی منڈی تحصیل کے اریگام گاؤں کے رہائشی تھے۔ افسران کے مطابق لینڈ سلائیڈنگ پیر کے روز پونچھ کے لوران-دومیلن علاقے میں پیش آیا۔ مقامی لوگوں نے بتایا کہ اچانک سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے شدید خطرے کو مدنظر رکھتے ہوئے لوگوں کو خبردار کرنے کے لیے مسجدوں سے اعلانات کیے گئے۔ پولیس، سول انتظامیہ، ایس ڈی آر ایف اور مقامی رضاکار موقع پر پہنچ گئے اور بچاؤ مہم شروع کی۔ افسران کی جانب سے نقصان کا تخمینہ لگایا جا رہا ہے اور بچاؤ آپریشن جاری ہے۔
ڈوڈہ ضلع میں جموں-کشتواڑ قومی شاہراہ پر رگی نالے کے پاس ایک مسافر بس پہاڑی سے لڑھکتے ہوئے ایک چٹان کی زد میں آ گئی۔ صبح تقریباً 9:30 بجے پیش آنے والے اس واقعے میں کلوینت سنگھ اور منیش کمار کی موت ہو گئی، جبکہ 6 دیگر افراد زخمی ہو گئے۔ چٹانیں گرنے سے 2 نجی کاریں بھی تباہ ہوئیں، جس کی وجہ سے قومی شاہراہ کافی وقت تک بند رہی۔ حالانکہ اس واقعے میں کسی کے ہلاک یا زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ہے۔ افسران نے بتایا کہ ضلع کے کشتی گڑھ علاقے میں شیو دیوی نامی ایک خاتون کی گھر کے پاس گرنے والی چٹان کی زد میں آنے سے موت ہو گئی۔ دوسری طرف اچانک آنے والے سیلاب میں بہہ جانے والے وقاس احمد کی لاش پیر کی صبح راجوری شہر کے سلانی علاقے میں ندی سے برآمد کی گئی۔

















