نئی دہلی: نیٹ 2026 پیپر لیک معاملہ کو لے کر انڈین یوتھ کانگریس کے صدر اودے بھانو چب اور این ایس یو آئی کے صدر ونود جاکھڑ نے مشترکہ پریس کانفرنس میں مودی حکومت، بی جے پی اور این ٹی اے (نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی) کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ دونوں تنظیموں کے لیڈران نے الزام عائد کیا کہ ملک کے تعلیمی نظام کو منظم انداز میں تباہ کیا جا رہا ہے اور لاکھوں طلبا کے مستقبل سے کھلواڑ ہو رہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ پیپر لیک کے پورے نیٹورک کو سیاسی تحفظ حاصل ہے اور اس کے لیے حکومت براہ راست ذمہ دار ہے۔
انڈین یوتھ کانگریس کے صدر اودے بھانو چب نے میڈیا سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ ’’نیٹ پیپر لیک ایک سنگین مسئلہ ہے۔ ملک میں لاکھوں بچے دن رات پڑھائی کرتے ہیں، کئی سال سخت محنت کرتے ہیں تاکہ ان کا مستقبل سنور جائے۔ لیکن گزشتہ 10 برسوں میں 89 پیپر لیک ہوئے ہیں اور 48 مرتبہ دوبارہ امتحانات کرائے گئے ہیں۔ یعنی حکومت نے بچوں کے تئیں اپنی جواب دہی ختم کر دی ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ اگر کوئی خود کو ان طلبا کی جگہ رکھ کر دیکھے تو ان کے درد کو محسوس کیا جا سکتا ہے۔ طلبا محنت سے امتحان دیتے ہیں، لیکن جب پیپر لیک ہوتا ہے تو ان کا پورے نظام پر سے اعتماد اٹھ جاتا ہے۔
اودے بھانو چب نے بی جے پی پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ ’’بی جے پی دعویٰ کرتی ہے نریندر مودی 2 ملکوں کے درمیان جنگ رکوا دیتے ہیں، لیکن سچ یہ ہے کہ ’کمپرومائزڈ پی ایم‘ نریندر مودی پیپر لیک بھی نہیں رکوا پا رہے ہیں۔‘‘ انہوں نے آگے کہا کہ ’’جب سے این ٹی اے وجود میں آیا ہے، تب سے مسلسل پیپر لیک کے معاملے سامنے آئے ہیں، میرٹ پر سوال اٹھے ہیں اور عدالتوں نے بھی ان معاملات کا نوٹس لیا ہے۔‘‘ انہوں نے سوال اٹھایا کہ این ٹی اے کا آڈٹ کون کرتا ہے؟ پرائیویٹ وینڈر کو کس بنیاد پر کام دیا جاتا ہے؟
















