نیٹ-یوجی 2026 امتحان اور پیپر لیک کے حوالے سے جاری تنازع کے دوران ایک اور بڑی خبر سامنے آ رہی ہے۔ آئندہ 21 جون 2026 کو دوبارہ ہونے والے نیٹ امتحان کے مبینہ پیپر لیک کا دعویٰ سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہا ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر کئے گئے ایک دعوے کے مطابق ٹیلی گرام پر کچھ مشتبہ گروپ کے ذریعہ 21 جون کے امتحان کے سوالنامے فروخت کرنے کا دھندا چلایا جا رہا ہے جس کے لیے امید واروں سے 35 ہزار روپئے ایڈوانس کی مانگ کی جا رہی ہے۔ نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) اس خبر سے حیران ہے اور اس نے معاملے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے اسے محکمہ سائبر کرائم کو سونپ دیا ہے۔
نیوز پورٹل ’آج تک‘ کی خبر کے مطابق یہ پورا معاملہ ’ایکس‘ صارف پرنس سریواستو کے ذریعہ سامنے لایا گیا ہے۔ صارف نے اسکرین شاٹ اور لنکس شیئر کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ٹیلی گرام پر ’پروف‘، ’پرائیویٹ گروپ‘ اور ’پرائیویٹ مافیا‘ نام سے 3 گروپ چلائے جا رہے ہیں۔ ان تینوں گروپوں کو کسی ایک ہی شںخص کے ذریعہ آپریٹ کیا جا رہا ہے جس سے تقریباً 3 ہزار سے زیادہ ممبرس جڑے ہوئے ہیں۔
امیدواروں کو جھانسے میں لینے کے لیے ان گروپس میں چھپے ہوئے سوالنامے کے بڑے بنڈلوں کی تصاویر پوسٹ کی گئی ہیں اور دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ 21 جون کو ہونے والے ’ری ایکزام‘ کے اصل سوالنامے ہیں۔ گروہ کی جانب سے گروپ میں باقاعدہ میسیج پن کیا گیا ہے’ Kal se advance price 35k rahega’۔ اس کے ساتھ ہی جلد ہی گروپ میں 10 سوال مفت میں حل کرانے کا جھانسہ بھی دیا جا رہا ہے۔
صارف کی جانب سے وزارت تعلیم، این ٹی اے اور سائبر دوست کو ٹیگ کئے جانے کے بعد نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی فوری طور پر حرکت میں آگئی۔ این ٹی اے کے سرکاری ’ایکس‘ ہینڈل (@NTA_Exams) سے جواب دیتے ہوئے واضح کیا گیا ہے کہ محکمہ نے اس پورے معاملے کو نوٹس میں لے لیا ہے۔ سیکورٹی اور شفافیت کے مد نظر ان سبھی مشتبہ ٹیلی گرام لنکس اور دعووں کو آگے کی قانونی کارروائی کے لیے فوری طور پر محکمہ سائبر کرائم کو بھیج دیا گیا ہے۔
















