امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ فی الحال ایران کے خلاف پھر سے بڑے پیمانے پر جنگ شروع کرنا نہیں چاہتے۔ حالانکہ انہوں نے اپنے دوست ممالک سے کہا ہے کہ اگر ایران کی کسی کارروائی میں امریکی فوجی مارے جاتے ہیں تو پھر سے وہ فوجی کارروائی شروع کرنے پر غور کر سکتے ہیں۔ یہ دعویٰ امریکی اخبار ’وال اسٹریٹ جرنل‘ کی رپورٹ میں کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ٹرمپ مشرق وسطیٰ میں ایک بڑی جنگ سے بچنا چاہتے ہیں۔ اس لیے وہ چھوٹے موٹے حملوں اور کشیدگی کو کچھ وقت تک برداشت کرنے کے لیے تیار ہیں۔ مانا جا رہا ہے کہ وہ کئی ہفتوں یا مہینوں تک محدود تصادم کو برداشت کر سکتے ہیں۔ لیکن پورے خطے کو جنگ میں نہیں جھونکنا چاہتے۔ دوسری جانب یو اے ای سمیت خلیجی ممالک پر ایرانی حملے جاری ہیں۔
واضح رہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان 8 اپریل کو جنگ بندی ہوئی تھی۔ اس کے باوجود حالیہ دنوں میں دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں پھر اضافہ ہو گیا ہے۔ جنگ بندی کے نفاذ کے بعد سے اس ہفتے سب سے زیادہ شدید جھڑپیں ہوئیں۔ رپورٹ کے مطابق ایران نے خطے میں موجود امریکی فوجی ٹھکانوں اور کویت انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر میزائل اور ڈرون حملے کیے، جس میں ایک شخص کی موت ہو گئی۔
امریکہ اور ایران کے درمیان آبنائے ہرمز کو لے کر بھی کشیدگی کی صورتحال بنی ہوئی ہے۔ بدھ (3 جون) کو وائٹ ہاؤس میں ایک صحافی نے ڈونالڈ ٹرمپ سے پوچھا تھا کہ آپ جنگ بندی کو کیسے دیکھتے ہیں۔ اس پر ٹرمپ نے کہا کہ اس خطے میں جنگ بندی کا مطلب مکمل طور پر امن نہیں ہوتا، بلکہ کم سطح پر حملے جاری رہتے ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ حالات ابھی کنٹرول میں نہیں ہیں اور بات چیت کا راستہ کھلا ہوا ہے۔

















