نئی دہلی: وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ ایران میں حالات اب بھی سنگین ہیں، تاہم تہران میں موجود ہندوستانی سفارت خانہ وہاں پھنسے شہریوں کی مدد کے لیے مسلسل سرگرم عمل ہے۔ حکومت کے مطابق اب تک 2400 سے زیادہ ہندوستانی شہریوں کو محفوظ طریقے سے نکال کر وطن واپس پہنچایا جا چکا ہے، جو جاری کوششوں کا ایک اہم نتیجہ ہے۔
وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے مغربی ایشیا کی تازہ صورتحال پر ایک بین وزارتی بریفنگ کے دوران بتایا کہ اگرچہ فی الحال جنگ بندی نافذ ہے، لیکن مجموعی حالات بدستور نازک ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں گزشتہ دنوں کے واقعات نے صورتحال کو پیچیدہ بنا دیا ہے، جس کے پیش نظر حکومت پوری سنجیدگی کے ساتھ حالات پر نظر رکھے ہوئے ہے۔
ترجمان کے مطابق تہران میں ہندوستانی سفارت خانہ نہایت مشکل حالات کے باوجود مسلسل کام کر رہا ہے اور وہاں تعینات سفارتی عملہ شہریوں کی مدد کے لیے دن رات مصروف ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سفارت خانے کے افسران اور عملے کی محنت اور لگن قابلِ تحسین ہے، جن کی کوششوں سے ہزاروں شہریوں کو بحفاظت نکالا جا سکا۔
اس دوران امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ انہوں نے یکطرفہ طور پر جنگ بندی کو غیر معینہ مدت کے لیے بڑھانے کا اعلان کیا، جبکہ یہ معاہدہ چند گھنٹوں میں ختم ہونے والا تھا۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں کیا گیا جب ایران نے مجوزہ دوسرے مرحلے کی بات چیت میں شامل ہونے سے انکار کر دیا تھا۔
امریکی صدر نے اس سے قبل ایران کو متعدد بار خبردار کیا تھا کہ اگر اس نے ان کی شرائط قبول نہ کیں تو نتائج سنگین ہو سکتے ہیں۔ بعد میں اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر بیان جاری کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایران کے اندرونی اختلافات کے باعث وہ جنگ بندی کو اس وقت تک برقرار رکھیں گے جب تک تہران کوئی واضح اور متحد موقف اختیار نہیں کر لیتا۔
جنگ بندی میں توسیع کے ساتھ ہی امریکی قیادت نے ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکابندی جاری رکھنے کا بھی اعلان کیا، جسے ایران نے سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق تہران نے واضح کیا ہے کہ وہ دباؤ میں آ کر کسی بھی بات چیت میں شامل نہیں ہوگا اور سب سے پہلے ناکابندی کے خاتمے کا مطالبہ کرتا ہے۔














