اروناچل پردیش میں مسلسل مانسونی بارش نے شدید تباہی مچا دی ہے، جس کے باعث سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ اور بنیادی ڈھانچے کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے۔ ریاست کے کم از کم 12 اضلاع میں سڑکوں اور پلوں کے متاثر ہونے سے آمد و رفت کا نظام درہم برہم ہو گیا ہے، جبکہ کئی علاقے ایک دوسرے سے کٹ گئے ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں امدادی اور بچاؤ کی کارروائیاں پیر کے روز بھی جاری رہیں۔
لوئر دیبانگ ویلی ضلع کے ڈمبک علاقے میں سیسری ندی کے درمیان ایک جزیرے پر پھنسے چار افراد کو ہندوستانی فضائیہ کے ہیلی کاپٹر کے ذریعے بحفاظت نکال لیا گیا۔ مسلسل بارش کے باعث روئنگ-انینی شاہراہ کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے، جبکہ اچانک آنے والے سیلاب نے متعدد مقامات پر سڑکیں اور پل بہا دیے ہیں۔
انجو ضلع میں اتوار کی رات والونگ جانے والی شاہراہ پر سرتی گاؤں کے قریب ایک بھاری چٹان شاہراہ کی تعمیر میں مصروف مشین پر آ گری، جس کے نتیجے میں مشین آپریٹر کے ہلاک ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ خراب موسم، حدِ نگاہ میں کمی اور مزید چٹانیں گرنے کے خطرے کے باعث رات بھر امدادی کارروائیاں معطل رہیں، تاہم پیر کی صبح دوبارہ شروع کر دی گئیں۔ والونگ چوکی اور ہوائی پولیس تھانے کی ٹیمیں بھی امدادی کارروائیوں میں شریک ہیں، جبکہ ملبہ ہٹانے تک متاثرہ شاہراہ کو بند رکھا گیا ہے۔
ایسٹ سیانگ ضلع میں مسلسل بارش اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث نقل و حمل شدید متاثر ہوئی ہے۔ ضلع کی 11 اہم سڑکوں میں سے صرف دو کو ہی دوبارہ ٹریفک کے لیے کھولا جا سکا ہے، جبکہ باقی نو سڑکیں اب بھی بند ہیں یا سفر کے لیے غیر محفوظ قرار دی گئی ہیں۔

















