گواہاٹی ہائی کورٹ نے فارنرز ٹریبونل کے اس فیصلے کو درست ٹھہرایا ہے، جس میں آسام کے ایک شہری کو غیر ملکی قرار دیا گیا تھا۔ اس شخص نے اپنی ہندوستانی شہریت ثابت کرنے کے لیے 15 الگ الگ دستاویزات پیش کیے تھے، لیکن ہائی کورٹ نے ان تمام کو قانونی طور پر ناقابل قبول یا شہریت ثابت کرنے کے لیے ناکافی قرار دیا۔ گواہاٹی کے پاس کرایے کے مکان میں رہنے والے اس شخص نے عدالت میں کئی کاغذات پیش کیے تھے۔ ان میں 1951 کا نیشنل رجسٹر آف سٹیزنز (این آر سی)، 1966 سے لے کر اب تک کی کئی ووٹر لسٹ، 1973 کے زمین کے کاغذات، پین کارڈ اور ووٹر آئی ڈی (ای پی آئی سی) شامل تھے۔ تاہم عدالت کے مطابق عرضی گزار فارنرز ایکٹ 1946 کی دفعہ 9 کے تحت یہ ثابت کرنے میں مکمل طور سے ناکام رہا وہ ایک ہندوستانی شہری ہے۔
ہندی نیوز پورٹل ’آج تک‘ پر شائع خبر کے مطابق ہائی کورٹ کے جسٹس کلیان رائے سُرانا اور جسٹس شمیمہ جہاں کی بنچ نے ان تمام دستاویزات کو خارج کر دیا۔ عدالت نے کہا کہ 1951 کا این آر سی ریکارڈ کمپیوٹر سے حاصل کیا گیا تھا، تاہم قانون کے مطابق اس کی تصدیق نہیں کی گئی تھی۔ انڈین ایویڈنس ایکٹ کے تحت ضروری سرٹیفکیٹ نہ ہونے کی وجہ سے اس کی کوئی قانونی اہمیت نہیں رہ جاتی۔ اس کے علاوہ 2017 کا اسکول سرٹیفکیٹ اس لیے کالعدم قرار دیا گیا کیونکہ عرضی گزار نے اسے جاری کرنے والے ہیڈ ماسٹر کو گواہ کے طور پر عدالت میں پیش نہیں کیا۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ پین کارڈ اور ووٹر آئی ڈی شہریت کا پختہ ثبوت نہیں ہوتے ہیں۔


















