دہلی کے ستیہ نکیتن علاقے میں اتوار کی دوپہر ایک ہاسٹل کی عمارت اچانک منہدم ہونے سے علاقے میں افراتفری مچ گئی۔ تقریباً ڈیڑھ بجے پیش آنے والے اس حادثے کے بعد ملبے میں کئی افراد کے دبے ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ عمارت میں ہاسٹل چلنے کی وجہ سے متعدد طلبہ کے اندر پھنسے ہونے کا بھی اندیشہ ہے۔
حادثے کی اطلاع ملتے ہی فائر بریگیڈ کی کئی گاڑیاں موقع پر پہنچ گئیں اور فوری طور پر امدادی و بچاؤ کارروائی شروع کر دی گئی۔ دہلی پولیس اور انتظامیہ کے اعلیٰ افسران بھی جائے حادثہ پر پہنچے اور صورتحال کا جائزہ لیا۔ ریسکیو ٹیمیں ملبہ ہٹانے کے لیے مشینوں اور دیگر آلات کا استعمال کر رہی ہیں تاکہ اندر پھنسے افراد تک جلد از جلد پہنچا جا سکے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق ملبے سے ایک نوجوان کو نکالے جانے کی اطلاع ہے، تاہم اس کی حالت کے بارے میں فوری طور پر تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔ حکام کی جانب سے ابھی یہ تصدیق نہیں کی گئی کہ حادثے کے وقت عمارت کے اندر کتنے افراد موجود تھے اور ملبے میں کتنے لوگ پھنسے ہوئے ہیں۔
ستیہ نکیتن اور اس کے آس پاس کا علاقہ طلبہ کے لیے معروف ہے۔ یہاں متعدد پیئنگ گیسٹ (پی جی) سہولیت اور ہاسٹل موجود ہیں اور قریبی تعلیمی اداروں کی وجہ سے بڑی تعداد میں طلبہ رہائش پذیر ہیں۔ منہدم ہونے والی عمارت میں بھی ہاسٹل چلنے کی اطلاعات ہیں، جس کے بعد طلبہ کے اہل خانہ میں تشویش بڑھ گئی ہے۔

















