• Home
اتوار, ستمبر 6, 2026
No Result
View All Result
हिंदी समाचार
Qaumi Tanzeem | Urdu Daily Newspaper | Patna | Ranchi | Lucknow
Epaper
  • صفحہ اول
  • قومی خبریں
  • بہار
    ’سوتنترتا سینانی ایکسپریس‘ کے اے سی فرسٹ کلاس کوچ سے تقریباً 75 لیٹر شراب برآمد

    ’سوتنترتا سینانی ایکسپریس‘ کے اے سی فرسٹ کلاس کوچ سے تقریباً 75 لیٹر شراب برآمد

    سائبر جرائم کے خلاف مختلف مقامات پر سی بی آئی کی چھاپہ ماری

    سی بی آئی جانچ سے قبل بہار حکومت کی رضامندی لازمی – نئی گائیڈ لائن جاری

    پٹنہ ضلع کے نشیبی علاقوں میں سیلاب کا پانی داخل- تقریباً 2.32 لاکھ آبادی سیلاب سے متاثر

    پٹنہ ضلع کے نشیبی علاقوں میں سیلاب کا پانی داخل- تقریباً 2.32 لاکھ آبادی سیلاب سے متاثر

    پنچایت سے صدر جمہوریہ تک 280 سے زائد انتخابات لڑنے والے ’دھرتی پکڑ‘نہیں رہے

    پنچایت سے صدر جمہوریہ تک 280 سے زائد انتخابات لڑنے والے ’دھرتی پکڑ‘نہیں رہے

    بہار طلبہ تحریک کے زخمیوں سے ملے راہل گاندھی

    بہار طلبہ تحریک کے زخمیوں سے ملے راہل گاندھی

    نشے سے دور رہ کر صحت مند اور بہتر مستقبل کی جانب آگےبڑھیں- نشانت کمار

    نشے سے دور رہ کر صحت مند اور بہتر مستقبل کی جانب آگےبڑھیں- نشانت کمار

    مرکز کی مودی حکومت پر تیجسوی یادوکا زبردست حملہ

    تیجسوی یادو کا این ڈی اے کے رہنماؤں کو چیلنج

    ’ساون کے آخری سوموار‘ پر سنگھیشور دھام میں بھگڈر ، کئی افراد  زخمی

    ’ساون کے آخری سوموار‘ پر سنگھیشور دھام میں بھگڈر ، کئی افراد زخمی

    مغربی چمپارن ضلع کے لوریا تھانہ علاقے میں  دردناک سڑک حادثہ-5 افرادہلاک

    مغربی چمپارن ضلع کے لوریا تھانہ علاقے میں دردناک سڑک حادثہ-5 افرادہلاک

  • عالمی خبریں
  • ادبیات
  • تعلیم و روزگار
  • خواتین
  • انٹرٹینمنٹ
  • صفحہ اول
  • قومی خبریں
  • بہار
    ’سوتنترتا سینانی ایکسپریس‘ کے اے سی فرسٹ کلاس کوچ سے تقریباً 75 لیٹر شراب برآمد

    ’سوتنترتا سینانی ایکسپریس‘ کے اے سی فرسٹ کلاس کوچ سے تقریباً 75 لیٹر شراب برآمد

    سائبر جرائم کے خلاف مختلف مقامات پر سی بی آئی کی چھاپہ ماری

    سی بی آئی جانچ سے قبل بہار حکومت کی رضامندی لازمی – نئی گائیڈ لائن جاری

    پٹنہ ضلع کے نشیبی علاقوں میں سیلاب کا پانی داخل- تقریباً 2.32 لاکھ آبادی سیلاب سے متاثر

    پٹنہ ضلع کے نشیبی علاقوں میں سیلاب کا پانی داخل- تقریباً 2.32 لاکھ آبادی سیلاب سے متاثر

    پنچایت سے صدر جمہوریہ تک 280 سے زائد انتخابات لڑنے والے ’دھرتی پکڑ‘نہیں رہے

    پنچایت سے صدر جمہوریہ تک 280 سے زائد انتخابات لڑنے والے ’دھرتی پکڑ‘نہیں رہے

    بہار طلبہ تحریک کے زخمیوں سے ملے راہل گاندھی

    بہار طلبہ تحریک کے زخمیوں سے ملے راہل گاندھی

    نشے سے دور رہ کر صحت مند اور بہتر مستقبل کی جانب آگےبڑھیں- نشانت کمار

    نشے سے دور رہ کر صحت مند اور بہتر مستقبل کی جانب آگےبڑھیں- نشانت کمار

    مرکز کی مودی حکومت پر تیجسوی یادوکا زبردست حملہ

    تیجسوی یادو کا این ڈی اے کے رہنماؤں کو چیلنج

    ’ساون کے آخری سوموار‘ پر سنگھیشور دھام میں بھگڈر ، کئی افراد  زخمی

    ’ساون کے آخری سوموار‘ پر سنگھیشور دھام میں بھگڈر ، کئی افراد زخمی

    مغربی چمپارن ضلع کے لوریا تھانہ علاقے میں  دردناک سڑک حادثہ-5 افرادہلاک

    مغربی چمپارن ضلع کے لوریا تھانہ علاقے میں دردناک سڑک حادثہ-5 افرادہلاک

  • عالمی خبریں
  • ادبیات
  • تعلیم و روزگار
  • خواتین
  • انٹرٹینمنٹ
No Result
View All Result
Qaumi Tanzeem | Urdu Daily Newspaper | Patna | Ranchi | Lucknow
No Result
View All Result
ADVERTISEMENT
Home قومی خبریں

بلڈوزر تفریق اور نفرت پر مبنی سیاست کی علامت بن چکا ہے-مولانا ارشد مدنی

سہارنپور میں مسجد منہدم کیے جانے سے جمعیۃ علماء ہند کے صدر ناراض - گہرے دکھ کا اظہار

by Qaumi Tanzeem
ستمبر 6, 2026
in قومی خبریں
0
مذہبی شناخت ظاہر کرنے کا حکم مذہب کی آڑ میں سیاست کا کھیل۔مولانا ارشد مدنی

اتر پردیش کے سہارنپور کلکٹریٹ واقع ایک قدیم مسجد کو 5 ستمبر کی صبح تقریباً 5 بجے منہدم کیے جانے کا معاملہ سرخیوں میں ہے۔ اس معاملہ میں جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے اپنی سخت ناراضگی اور گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ اس واقعہ نے ملک کے سامنے ایک بار پھر یہ بنیادی سوال کھڑا کر دیا ہے کہ کیا آئین اور قانون کی پابندی ہر شہری اور ہر مذہب کے لیے واقعی یکساں ہے؟ اگر آئین سب کو مساوات، مذہبی آزادی اور قانون کے یکساں تحفظ کا حق دیتا ہے تو اس کے اصل نفاذ میں دوہرا معیار کیوں نظر آتا ہے؟

مولانا مدنی نے کہا کہ سہارنپور کا واقعہ صرف ایک مسجد کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ یہ آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی، مذہبی آزادی، شہری مساوات اور ریاست کے غیر جانبدارانہ کردار سے جڑا ہوا ایک انتہائی حساس معاملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ 1991 میں جو عبادت گاہوں کا قانون لایا گیا تھا، وہ اب بھی موجود ہے۔ انتظامیہ کی یہ کارروائی نہ صرف اس قانون کی خلاف ورزی ہے بلکہ جو نیا وقف قانون لایا گیا ہے، اس کے بھی خلاف ہے۔ انھوں نے بتایا کہ نئے وقف قانون میں وقف بائی یوزر کی دفعہ ہے، سہارنپور مسجد کو منہدم کیا جانا اس قانون کی بھی واضح خلاف ورزی ہے۔ اس مسجد کا تو وقف بورڈ میں رجسٹریشن بھی ہے، جس کا نمبر 451 ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ یہ زمین شروع سے ہی یعقوب خان اور وحید خان کے نام سے ہے، اس کے باوجود کارروائی کس انصاف کے تحت کی گئی؟

مولانا ارشد مدنی نے واضح لفظوں میں کہا کہ اگر غیر قانونی قبضہ اور تجاوزات ہی کارروائی کا واحد معیار ہے تو پھر یہی معیار ہر مذہب اور ہر طبقہ کے لیے یکساں ہونا چاہیے۔ لیکن اس طرح کے بہانوں اور وجوہات سے صرف ایک مخصوص برادری کو ہی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ مولانا مدنی نے یہ سوال بھی کیا کہ اگر ملک کے مختلف حصوں میں سرکاری زمینوں، سڑکوں، عوامی مقامات اور دوسری جگہوں پر برسوں اور دہائیوں سے مذہبی تعمیرات موجود ہیں، تو کیا ان تمام تعمیرات کے خلاف بھی انتظامیہ اسی عجلت، اسی سختی اور اسی معیار کے ساتھ کارروائی کر رہی ہے؟ اگر ایسا نہیں ہے تو پھر کسی ایک مذہبی مقام کے معاملے میں غیر معمولی سختی انصاف کے اصول پر سوال کھڑا کرتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ کسی مذہبی مقام کی ملکیت یا زمین سے متعلق قانونی تنازعہ کو عدالت میں طے کیا جا سکتا ہے، لیکن طویل عرصے سے جاری مذہبی استعمال والی جگہ، تاریخی دستاویزات اور زمینی حقائق کو بھی قانون کے دائرے میں پوری سنجیدگی سے دیکھا جانا چاہیے۔ اس سلسلے میں مسجد کمیٹی کا موقف بھی اہم ہے۔

مولانا ارشد مدنی نے میڈیا کے سامنے اس حقیقت کو سامنے رکھا کہ کمیٹی نے عدالت میں مختلف تاریخی دستاویزات پیش کیے تھے کہ مسجد کا وجود کلکٹریٹ کی موجودہ عمارت سے پہلے کا ہے۔ کچھ رپورٹس کے مطابق کمیٹی کی جانب سے 1911 سے متعلق دستاویزات، میونسپل ریکارڈ اور پرانے ریونیو ریکارڈ بھی عدالت کے سامنے رکھے گئے تھے، لیکن انہیں نظر انداز کر دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ایسی صورت حال میں بنیادی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر کسی مقام پر ایک صدی سے زیادہ عرصہ تک بغیر کسی رکاوٹ کے نماز ادا ہوتی رہی ہو، نسل در نسل لوگ اسے مسجد کے طور پر استعمال کرتے رہے ہوں اور اس کے قدیم ہونے سے متعلق دستاویزی دعوے بھی موجود ہوں تو اس پوری تاریخی حقیقت کو محض ایک انتظامی تنازعہ کے طور پر دیکھنا کہاں تک مناسب ہے؟

مولانا مدنی نے صاف طور پر کہا کہ یہ ملک کسی ایک مذہب یا کسی ایک طبقے کا نہیں ہے۔ ہندوستان ہندو، مسلم، سکھ، عیسائی اور تمام مذاہب و عقائد کے لوگوں کا مشترکہ وطن ہے۔ آئین نے کسی کو پہلے درجہ اور کسی کو دوسرے درجہ کا شہری نہیں بنایا ہے۔ پھر انتظامیہ کے رویے سے ایسا احساس کیوں پیدا ہوتا ہے کہ مذہبی شناخت انصاف کے معیار کو متاثر کر رہی ہے؟ ان کا کہنا ہے کہا کہ ہم حکومت سے کوئی خصوصی رعایت نہیں مانگ رہے ہیں، ہم صرف مساوی انصاف مانگ رہے ہیں۔ ہمارا سوال بالکل سیدھا ہے، جو قانون مسجد کے لیے ہے، وہی قانون ہر مذہبی مقام کے لیے کیوں نہیں ہے؟ جو معیار ایک مسلمان کے لیے ہے، وہی دوسرے شہری کے لیے کیوں نہیں ہے؟ اگر آئین اور قانون سب کے لیے ہیں تو اس کا تحفظ اور نفاذ بھی سب کے لیے یکساں ہونا چاہیے۔

Qaumi Tanzeem

Qaumi Tanzeem

Related Posts

اتراکھنڈ میں مدارس کے خلاف بڑی کارروائی، اب تک 20 مدارس مکمل طور پر بند
قومی خبریں

اتراکھنڈ میں مدارس کے خلاف بڑی کارروائی، اب تک 20 مدارس مکمل طور پر بند

by Qaumi Tanzeem
ستمبر 6, 2026
جھیرم گھاٹی نکسلی حملہ معاملہ:  10 ملزمان قصوروار قرار
قومی خبریں

جھیرم گھاٹی نکسلی حملہ معاملہ: 10 ملزمان قصوروار قرار

by Qaumi Tanzeem
ستمبر 5, 2026
اگر یوپی کے ضمنی انتخابات ایمانداری سے ہوئے تو بی جے پی  کی شکست یقینی -عمران مسعود
قومی خبریں

سہارنپور میں مسجد کے انہدام پر عمران مسعود کا سخت ردعمل

by Qaumi Tanzeem
ستمبر 5, 2026
اساتذہ بچوں کو بہتر طریقے سےسمجھنے کی کوشش کریں۔وزیراعظم
قومی خبریں

اساتذہ بچوں کو بہتر طریقے سےسمجھنے کی کوشش کریں۔وزیراعظم

by Qaumi Tanzeem
ستمبر 5, 2026
سہارنپور کلکٹریٹ احاطے میں واقع مسجد  منہدم، ضلعی عدالت کے حکم پر ہوئی کارروائی
قومی خبریں

سہارنپور کلکٹریٹ احاطے میں واقع مسجد منہدم، ضلعی عدالت کے حکم پر ہوئی کارروائی

by Qaumi Tanzeem
ستمبر 5, 2026
’ہندوتوا انفلوئنسر‘ سوتنتر بھاردواج گرفتار، نیپال فرار ہونے کی کوشش ناکام
قومی خبریں

’ہندوتوا انفلوئنسر‘ سوتنتر بھاردواج گرفتار، نیپال فرار ہونے کی کوشش ناکام

by Qaumi Tanzeem
ستمبر 4, 2026

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Recommended

مذہبی شناخت ظاہر کرنے کا حکم مذہب کی آڑ میں سیاست کا کھیل۔مولانا ارشد مدنی

بلڈوزر تفریق اور نفرت پر مبنی سیاست کی علامت بن چکا ہے-مولانا ارشد مدنی

3 منٹس ago
اتراکھنڈ میں مدارس کے خلاف بڑی کارروائی، اب تک 20 مدارس مکمل طور پر بند

اتراکھنڈ میں مدارس کے خلاف بڑی کارروائی، اب تک 20 مدارس مکمل طور پر بند

27 منٹس ago

Popular News

    Connect with us

    Categories

    • aaa
    • اتر پردیش
    • ادبیات
    • انٹرٹینمنٹ
    • بہار
    • تعلیم و روزگار
    • خواتین
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • عرب ممالک
    • قومی خبریں
    • کھیل
    • About
    • Advertise
    • Terms & Conditions
    • Grievance
    • Letter to Editor
    • Contact

    © 2023 Qaumi Tanzeem - Urdu Daily Newspaper Qaumitanzeem

    No Result
    View All Result
    • صفحہ اول
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
      • بہار
    • عرب ممالک
    • عالمی خبریں
    • ادبیات
    • تعلیم و روزگار
    • کھیل
    • خواتین
    • انٹرٹینمنٹ
    • हिंदी समाचार

    © 2023 Qaumi Tanzeem - Urdu Daily Newspaper Qaumitanzeem