نئی دہلی: سپریم کورٹ نے زمین اور جائیداد سے متعلق تنازعات کے حل کے لیے ایک علیحدہ ریونیو عدالتی سروس قائم کرنے کے مطالبہ پر مبنی مفاد عامہ کی عرضی پر سماعت کرنے پر رضامندی ظاہر کر دی ہے۔ اس عرضی میں مرکزی اور ریاستی حکومتوں کو ہدایت دینے کی درخواست کی گئی ہے کہ وہ زمین کے تنازعات کے لیے ایک منظم اور باقاعدہ عدالتی نظام قائم کریں، جس میں فیصلے کرنے والے افسران کے لیے کم از کم قانونی تعلیم اور عدالتی تربیت لازمی ہو۔
چیف جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جوئے مالیا باگچی کی بنچ نے یہ سماعت وکیل اشونی کمار اپادھیائے کی طرف سے داخل کردہ عرضی پر کی۔ عرضی میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ اس وقت ملک میں زمین کے معاملات، جیسے ملکیت، وراثت، قبضہ اور جائیداد کے حقوق، ایسے ریونیو اور چک بندی افسران کے ذریعے طے کیے جا رہے ہیں جن کے پاس نہ تو باقاعدہ قانونی تعلیم ہوتی ہے اور نہ ہی عدالتی تربیت۔ اس صورت حال کو آئین کے آرٹیکل 14، 21 اور 50 کی خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے۔
سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ معاملہ یقیناً اہم اور دلچسپ ہے لیکن حکومت یہ مؤقف اپنا سکتی ہے کہ یہ قانون سازی کے دائرے میں آتا ہے۔ اس کے باوجود عدالت نے معاملے کی سنجیدگی کو دیکھتے ہوئے نوٹس جاری کرتے ہوئے چار ہفتوں کے اندر جواب طلب کر لیا ہے۔
درخواست گزار نے عدالت کو بتایا کہ زمین سے جڑے تنازعات ملک کے دیہی علاقوں میں سنگین مسئلہ بن چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مختلف اضلاع کے دوروں کے دوران لوگوں کی سب سے بڑی شکایت یہی سامنے آتی ہے کہ زمین کے مقدمات برسوں تک زیر التوا رہتے ہیں۔ انہوں نے ایک مثال دیتے ہوئے کہا کہ ایک معاملہ گزشتہ چالیس 40 برس سے چک بندی افسر کے سامنے زیر سماعت ہے، جس میں یہ طے ہونا باقی ہے کہ کون سا ہبہ نامہ درست ہے۔
عرضی میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ملک میں تقریباً 66 فیصد دیوانی مقدمات زمین اور جائیداد سے متعلق ہوتے ہیں لیکن ان کا ابتدائی فیصلہ ایسے انتظامی افسران کرتے ہیں جو قانونی تربیت سے محروم ہوتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں فیصلوں میں تضاد، تاخیر اور قانونی خامیاں پیدا ہوتی ہیں، جس سے عام لوگوں کو انصاف حاصل کرنے میں دشواری پیش آتی ہے۔















