اتر پردیش کے وارانسی میں گنگا ندی کی آبی سطح میں اضافہ نے عام زندگی کو بری طرح متاثر کر دیا ہے۔ حال میں کچھ دنوں کے لیے پانی کی سطح کم ہوئی تھی لیکن گنگا میں ایک بار پھر طغیانی ہے اور شہر کے بیشتر علاقے اس سے متاثر ہیں۔گنگا کا پانی جمعرات کی صبح انتباہ کے نشان 70.262 میٹر سے اوپر نکل کر 70.91 میٹر تک پہنچ گیا۔ اب یہ سطح خطرے کے نشان 71.262 میٹر کے قریب ہے، جس سے شہریوں کی پریشانیاں مزید بڑھ گئی ہیں۔ بڑھتے پانی نے گھاٹوں کے نچلے حصے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے، جس کی وجہ سے صدیوں پرانی رسومات اور مذہبی سرگرمیاں متاثر ہو گئی ہیں۔
’گنگا سیوا ندھی‘ کے منتظمین نے بتایا کہ دشاشومیدھ گھاٹ پر روزانہ شام کو ہونے والی گنگا آرتی اب بھی گھاٹ کی چھت پر کی جا رہی ہے، کیونکہ نچلا حصہ مکمل طور پر پانی میں ڈوبا ہوا ہے۔ صرف آرتی ہی نہیں بلکہ آخری رسومات بھی اب چھتوں پر ادا کی جا رہی ہیں۔ ہرش چندر اور منی کرنیکا گھاٹ، جہاں روزانہ بڑی تعداد میں شمشان کی رسومات ادا کی جاتی ہیں، پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ اس مجبوری میں لاشوں کو جلانے کا انتظام گھاٹوں کی چھتوں پر کیا گیا ہے۔اس کے علاوہ، دَشاشومیدھ گھاٹ پر واقع شیتلا ماتا مندر بھی مکمل طور پر پانی میں ڈوب گیا ہے۔ عام لوگوں کے ساتھ ساتھ یاتریوں کو بھی سخت مشکلات کا سامنا ہے، کیونکہ گھاٹ کی سیڑھیاں اور راستے ناقابلِ استعمال ہو گئے ہیں۔
ضلعی انتظامیہ نے بڑھتے پانی کے پیش نظر ہنگامی اقدامات شروع کر دیے ہیں۔ ضلع مجسٹریٹ ستیندر کمار نے متعلقہ محکموں کو ہدایت دی ہے کہ ریلیف کیمپوں کو دوبارہ فعال کیا جائے اور متاثرہ افراد کو محفوظ مقامات پر پہنچایا جائے۔ انہوں نے نگر نگم کے افسروں کو یہ بھی حکم دیا ہے کہ صفائی پر خصوصی دھیان دیا جائے، ریلیف کیمپوں کے بیت الخلا صاف رکھے جائیں اور پانی بھرے علاقوں میں اینٹی لاروہ اسپرے اور فوگنگ کا کام مسلسل جاری رہے۔
صرف گنگا ہی نہیں بلکہ ورونا ندی بھی اب ابلنے لگی ہے۔ اس کی وجہ سے نشیبی علاقوں میں حالات مزید خراب ہو گئے ہیں۔ شکر تالاب، پرانا پل، نکھّی گھاٹ، پل کوہنا اور دین دیال پور جیسے علاقوں میں پانی گھروں میں داخل ہو گیا ہے۔ ان علاقوں کے رہائشیوں کو مجبوراً اپنا گھر چھوڑ کر محفوظ مقامات کا رخ کرنا پڑ رہا ہے۔ انتظامیہ کے مطابق اب تک سو سے زیادہ افراد کو ریلیف کیمپوں میں منتقل کیا جا چکا ہے
















