لکھنؤ: سماجوادی پارٹی کے تمام ارکانِ پارلیمنٹ کی ایک اہم اور طویل نشست منگل کو پارٹی کے ریاستی صدر دفتر لکھنؤ میں منعقد ہوئی، جس کی صدارت پارٹی کے قومی صدر اکھلیش یادو نے کی۔ اجلاس میں آئندہ اسمبلی انتخابات کی حکمتِ عملی، تنظیمی تیاریوں اور عوامی مسائل پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ اس موقع پر اکھلیش یادو نے اعلان کیا کہ آنے والے اسمبلی انتخابات کے لیے ضلع کی سطح پر انتخابی منشور تیار کیا جائے گا، جس میں عوام کی روزمرہ زندگی سے جڑے حقیقی مسائل کو ترجیح دی جائے گی، تاکہ عوام کی آواز کو براہِ راست سیاسی دستاویز کی شکل دی جا سکے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی ایس آئی آر کے ذریعے انتخابی عمل میں دھاندلی کرنا چاہتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مرکزی اور ریاستی الیکشن کمیشن کی ووٹر فہرستوں میں واضح فرق موجود ہے، جو حکومت کی نیت اور طریقۂ کار پر سنگین سوالات کھڑے کرتا ہے۔ اکھلیش یادو نے کہا کہ شفاف انتخابات جمہوریت کی بنیاد ہیں، لیکن موجودہ حکومت ان بنیادوں کو کمزور کر رہی ہے۔
اکھلیش یادو نے حکومت پر مذہبی مقامات کو نقصان پہنچانے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ موجودہ دورِ حکومت میں جتنے مندروں کو منہدم کیا گیا، اتنا کسی بھی سابقہ عہد میں نہیں ہوا۔ انہوں نے حکومت کو مکمل طور پر ناکام قرار دیتے ہوئے کہا کہ عوام کے آئینی اور جمہوری حقوق کو مسلسل کچلا جا رہا ہے۔

















