حیدرآباد ۔ تلنگانہ کے چیف الیکٹورل آفیسر سدرشن ریڈی نے ریاست میں جاری SIR مہم پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ 98 فیصد ووٹرس میں اینومریشن فارمس تقسیم ہوگئے ہیں۔ مختلف وجوہات کی بنیاد پر 89 لاکھ ووٹرس کو نوٹس جاری کی جائیگی ۔ ووٹ نا ہونے پر فلاحی اسکیمات ملیں گی یا نہیں حکومت فیصلہ کرے گی ۔ آج سوماجی گوڑہ پریس کلب میں منعقدہ صحافت سے ملاقات پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کیا۔سدرشن ریڈی نے کہاکہ SIR کا عمل تلنگانہ میں پرامن طریقہ سے جاری ہے ۔ فارمس کو جمع کرنے اور ان کا ڈیجیٹلائزیشن کرنے کا عمل 24 جولائی تک لازمی طورپر جاری رہیگا ۔ انھوں نے ایک بڑا انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ الیکشن کمیشن آف انڈیا نے تلنگانہ کی ووٹر لسٹوں میں غلط تفصیلات (Spelling) کی غلطوں اور بے ضابطگیوں والے 89 لاکھ ووٹرس کی نشاندہی کی گئی ہے ۔ الیکشن کمیشن نے ان تمام ووٹرس کو نوٹس جاری کرنے جارہاہے تاکہ ووٹر لسٹوں کو مکمل طورپر پاک اور شفاف کیا جاسکے ۔
انھوں نے کہاکہ ووٹر لسٹوں پر نظرثانی ایک مسلسل جاری رہنے والا عمل ہے لیکن سنٹرل الیکشن کمیشن نے بڑے پیمانے پر فرضی ووٹوں کو فہرست سے ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے ۔ اس سروے میںکسی بھی شہری کے دو الگ الگ مقامات یا حلقوں میں ووٹ پائے گئے تو اسے ایک سال کی قید ہوگی ۔ اس فرضی ووٹوں کو روکنے کمیشن ملک بھر میں DAC سافٹ ویئر کا استعمال کررہا ہے جس کے ذریعہ دوہرے ووٹوں کو خودبخود نکال دیا جائے گا ۔ انھوں نے کہاکہ جن ووٹرس کا 2002 ء کا ڈیٹا دستیاب نہیں ہے اُنھیں بھی نوٹس دیئے جائیں گے اور اُن کیلئے خصوصی سروے کیا جائیگا ۔ ووٹر آئی ڈی اور سرکاری فلاحی اسکیمات کے لنک پر سوال کیا گیاتو انھوں نے کہاکہ اگر کسی شہری کا ووٹ نہیں ہے تو اسے فلاحی اسکیمات دی جائیگی یا نہیں اس کافیصلہ کمیشن نہیں بلکہ حکومت کرے گی ۔
چیف الیکٹورل آفیسر نے عام شہریوں کو تسلی دی اور کہا کہ جن ووٹرس کو ابھی تک فارم نہیں ملا وہ اپنے علاقہ کے بی ایل او سے فوری رابطہ کریں۔ اگر کسی وجہ سے فارم حاصل کرنے سے محروم رہ جاتے ہیں تو اُنھیں گھبرانے کی ضرورت نہیں کیونکہ ماہ اگسٹ میں ووٹر رجسٹریشن کا ایک نیا پروگرام شروع ہوگا جہاں وہ فارم 6 اور فارم 8 کے ذریعہ درخواستیں جمع کراسکتے ہیں ۔ نیا ووٹ رجسٹر ہونے کے بعد سنٹرل الیکشن کمیشن اندرون ایک ماہ ووٹر آئی ڈی جاری کردیگا ۔
















