وقف ترمیمی بل 2024 کی پارلیمنٹ سے منظوری کے بعد بھی اس پر سیاسی اور سماجی سطح پر بحث جاری ہے۔ اب کانگریس رہنما راہل گاندھی نے ایک بار پھر حکومت اور آر ایس ایس کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر ایک رپورٹ شیئر کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ وقف کے بعد اب آر ایس ایس کی توجہ چرچ کی زمینوں پر مرکوز ہو گئی ہے۔
راہل گاندھی نے اپنی پوسٹ میں لکھا، ’’میں نے کہا تھا کہ وقف بل اس وقت مسلمانوں کو نشانہ بناتا ہے لیکن مستقبل میں یہ دوسرے اقلیتی طبقات پر بھی حملے کی بنیاد بن سکتا ہے۔ وقف کے بعد آر ایس ایس کا چرچ کی طرف رخ کرنے میں زیادہ وقت نہیں لگا۔ صرف آئین ہی ایک ایسی ڈھال ہے جو ہمارے عوام کو ایسے حملوں سے بچاتا ہے اور اس کی حفاظت ہمارا اجتماعی فریضہ ہے۔
راہل گاندھی نے جس خبر کا حوالہ دیا ہے وہ آر ایس ایس سے منسلک جریدے آرگنائزر کے ویب پورٹل پر شائع ہوئی ہے۔ رپورٹ میں کیتھولک چرچ بمقابلہ وقف بورڈ کے عنوان سے مضمون میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ کیتھولک ادارے ملک میں تقریباً سات کروڑ ہیکٹیئر زمین کے مالک ہیں اور انہیں سب سے بڑا غیر سرکاری زمین دار قرار دیا گیا ہے۔
اس دعوے کے بعد نئی بحث کا آغاز ہو گیا ہے۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ حکومت اقلیتوں کے مذہبی و سماجی اداروں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ راہل گاندھی نے اپنے بیان میں اسی امکان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اسے صرف مسلمانوں تک محدود نہ ماننے کی بات کہی ہے۔
خیال رہے کہ وقف ترمیمی بل کو پہلے لوک سبھا میں پیش کیا گیا، جہاں اس کے حق میں 288 اور مخالفت میں 232 ووٹ پڑے۔ اس کے بعد راجیہ سبھا میں بل کے حق میں 128 اور مخالفت میں 95 ووٹ آئے۔ دونوں ایوانوں سے منظور ہونے کے بعد اب یہ بل صدر جمہوریہ کو منظوری کے لیے بھیجا جائے گا، جس کے بعد یہ قانون بن جائے گا۔
دوسری طرف جنتا دل یونائیٹڈ (جے ڈی یو) میں اس بل کو لے کر اندرونی خلفشار بڑھ گئی ہے۔ پارٹی کے پانچ اراکین، وزیر اعلیٰ نتیش کمار کے اس بل پر نرم رویے سے ناراض ہو کر استعفیٰ دے چکے ہیں۔ جبکہ یوپی میں جیت چودھری کی آر ایل ڈی کے بھی ایک عہدیدار احتجاجاً اپنا استعفی پیش کر چکے ہیں۔