لکھنؤ: سماجوادی پارٹی کے قومی صدر اکھلیش یادو نے 69 ہزار اساتذہ بھرتی میں ریزرویشن کے معاملہ کو لے کر حکومت پر سخت حملہ بولا اور دعویٰ کیا کہ اگر ان کی پارٹی اقتدار میں آتی ہے تو 90 دن کے اندر بھرتی کا عمل مکمل کر کے امیدواروں کو انصاف دلایا جائے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت بننے پر ذاتی مردم شماری کرائی جائے گی۔
لکھنؤ واقع پارٹی دفتر میں منعقد پریس کانفرنس کے دوران اکھلیش یادو نے ’پی ڈی اے آڈٹ‘ نامی دستاویز جاری کی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اساتذہ بھرتی کے عمل میں پسماندہ، دلت اور محروم طبقات کے حقوق کو نظر انداز کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ 2019 کی 69 ہزار معاون اساتذہ بھرتی میں دیگر پسماندہ طبقہ کے لیے طے نشستوں کا مکمل فائدہ امیدواروں کو نہیں ملا۔
سماجوادی پارٹی صدر کے مطابق دیگر پسماندہ طبقہ کو 27 فیصد کے بجائے کم نمائندگی دی گئی، جبکہ درج فہرست ذاتوں کے لیے طے ریزرویشن میں بھی کمی کی گئی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ محفوظ زمروں کے ہزاروں عہدوں کے ساتھ ناانصافی ہوئی اور درج فہرست قبائل کے کئی عہدے خالی چھوڑ دیے گئے۔
انہوں نے کہا کہ اگر بلڈوزر چلانا ہی ہے تو اسے سماج میں موجود غیر برابری ختم کرنے اور سب کو برابر حقوق دلانے کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ 2014 کے بعد سے ریزرویشن کے نظام کو کمزور کرنے کی کوششیں تیز ہوئی ہیں۔
سماجوادی پارٹی صدر نے کہا کہ لیٹرل انٹری جیسی پالیسیوں کے ذریعے پسماندہ اور محروم طبقات کے حقوق متاثر ہو رہے ہیں۔ ان کے مطابق ریزرویشن کسی پر احسان نہیں بلکہ آئینی حق ہے۔ انہوں نے کہا کہ سماج میں طویل عرصے سے غیر مساوات موجود رہی ہے اور بابا صاحب نے آئین کے ذریعے سماجی انصاف کی راہ ہموار کی۔
انہوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی پر بھی نشانہ سادھتے ہوئے کہا کہ وہ اس نظام کو کمزور کرنا چاہتی ہے جس کے سہارے محروم طبقات آگے بڑھ رہے ہیں۔ معیشت کے مدعے پر بھی انہوں نے مرکز اور ریاستی حکومتوں کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ صرف ٹریلین ڈالر اکانومی کا نعرہ دینے سے اقتصادی حالات بہتر نہیں ہوں گے۔

















