مرکزی تفتیشی ایجنسی (سی بی آئی) کی جانب سے 19 ملزمین کے خلاف چارج شیٹ داخل کی گئی ہے، جن پر ریاستی حکومت کے مختلف محکموں اور تنظیموں کے 504 کروڑ روپے فنڈ کے مبینہ غبن کا الزام ہے۔ بدھ کے روز داخل کی گئی چارج شیٹ میں ہریانہ کیڈر کے 6 آئی اے ایس افسران کے علاوہ آئی ڈی ایف سی فرسٹ بینک کے 3 افسران اور اے یو اسمال فائنانس بینک کا ایک افسر بھی شامل ہے۔
ایجنسی سے وابستہ افسران نے بتایا کہ سی بی آئی نے اس معاملے میں پنچکولہ کی ایک خصوصی عدالت میں داخل کی گئی اپنی تیسری چارج شیٹ میں آئی اے ایس افسران رام کمار سنگھ، محمد شاہین، پردیپ کمار، ساکیت کمار، وینیت گرگ اور پنکج اگروال کے نام شامل کیے ہیں۔ اپنی چارج شیٹ میں سی بی آئی نے آئی ڈی ایف سی فرسٹ بینک کے 3 افسران شمیم احمد ڈار، سدھا گویل، کلدیپ سنگھ اور اے یو اسمال فائنانس بینک کے چرنجیت سنگھ رندھاوا کا نام بھی لیا ہے۔ چارج شیٹ میں ہریانہ حکومت کے دیگر افسران کو بھی ملزم بنایا گیا ہے، جن میں راجیش گویل، دیپتی کوشک، سورو کمار، پرنس شرما، پروین کمار، سریندر کور، امت کمار، سریندر جین اور جگت کشور شامل ہیں۔
ایجنسی کی ترجمان بینا یادو نے کل جاری اپنے بیان میں بتایا کہ سی بی آئی نے ان ملزمین پر بی این ایس کے تحت مجرمانہ سازش رچنے، دھوکہ دہی کرنے، ثبوت مٹانے، جعل سازی، جعلی دستاویزات کو اصلی کے طور پر استعمال کرنے، کھاتوں میں ہیرا پھیری، مجرمانہ امانت شکنی اور اکسانے کے الزامات عائد کیے ہیں۔ یہی نہیں، چارج شیٹ میں انسداد بدعنوانی ایکٹ کے تحت رشوت خوری اور مجرمانہ بدعنوانی کے جرائم بھی شامل کیے گئے ہیں۔
سی بی آئی ترجمان کا کہنا ہے کہ اب تک کی تفتیش سے یہ پتہ چلا ہے کہ ملزم سرکاری ملازمین نے آئی ڈی ایف سی فرسٹ بینک اور اے یو اسمال فائنانس بینک کے ملزم بینکروں کے ساتھ مل کر ایک منصوبہ بند طریقے سے دھوکہ دہی کی سازش رچی اور پھر اسے انجام تک پہنچایا۔ سازش کے تحت ہریانہ حکومت کے 8 محکموں کے فنڈ کو مختلف مجاز بینکوں سے آئی ڈی ایف سی فرسٹ بینک اور اے یو اسمال فائنانس بینک کی ان مخصوص شاخوں میں منتقل کیا گیا، جہاں ملزم بطور بینک افسر کام کر رہے تھے۔ فنڈ کی رقم کے غبن کے لیے ان بینک شاخوں میں بینک اکاؤنٹس بھی کھولے گئے تھے۔


















