ان دنوں پورا شمالی ہندوستان بھٹی بنا ہوا ہے، گویا آسمان سے آگ برس رہی ہو۔ دوپہر ہی نہیں، بوقت شب اور علی الصبح بھی شدید گرمی پڑ رہی ہے۔ تشویش ناک بات یہ ہے کہ ہندوستانی محکمۂ موسمیات (آئی ایم ڈی) نے دہلی، اتر پردیش، پنجاب اور ہریانہ سمیت کئی ریاستوں کے لیے آئندہ 5 دنوں تک شدید گرم لہر (ہیٹ ویو) کا الرٹ جاری کیا ہے۔ یعنی لوگوں کو فی الحال گرمی سے راحت ملنے والی نہیں ہے۔
قومی راجدھانی دہلی اور اس کے قرب و جوار ان دنوں شدید گرمی کی زد میں ہیں۔ محکمۂ موسمیات کے مطابق جمعہ (22 مئی) کو دہلی کا زیادہ سے زیادہ درجۂ حرارت ایک بار پھر 46 ڈگری سلسیس تک پہنچ سکتا ہے۔ اس کے بعد 23 سے 26 مئی کے درمیان بھی پارہ 44 سے 45 ڈگری کے آس پاس ہی برقرار رہنے کا امکان ہے۔ یعنی دہلی والوں کو فی الحال اس جھلسا دینے والی گرمی اور شدید لُو سے راحت ملتی دکھائی نہیں دے رہی۔
اتر پردیش میں بھی گرمی نے لوگوں کی زندگی دشوار کر دی ہے۔ بدھ کے روز باندا ضلع میں درجۂ حرارت 48 ڈگری سلسیس ریکارڈ کیا گیا تھا، جو معمول سے 4.5 ڈگری زیادہ ہے۔ یہ نہ صرف ریاست بلکہ پورے ملک میں سب سے زیادہ درجۂ حرارت رہا۔ لکھنؤ موسمی مرکز کے مطابق اتر پردیش کے کئی علاقوں میں فی الحال حالات بہتر ہونے کے آثار نہیں ہیں۔ محکمۂ موسمیات نے اگلے 3 دنوں کے لیے یلو الرٹ اور اس کے بعد شدید گرمی کے پیش نظر اورینج الرٹ جاری کیا ہے۔
ہریانہ اور پنجاب میں بھی لُو کے تھپیڑوں سے لوگ جھلس رہے ہیں۔ آئی ایم ڈی کی تازہ رپورٹ کے مطابق ہریانہ کے روہتک اور پنجاب کے بھٹنڈہ میں درجۂ حرارت 46 ڈگری سلسیس سے تجاوز کر گیا ہے۔ دونوں ریاستوں میں مسلسل گرم ہوائیں چل رہی ہیں۔ مرکز کے زیر انتظام خطہ چندی گڑھ میں بھی زیادہ سے زیادہ درجۂ حرارت 44.4 ڈگری سلسیس ریکارڈ کیا گیا ہے۔ حالانکہ جموں و کشمیر اور ہماچل پردیش جیسے پہاڑی علاقوں میں ہلکی بارش اور آندھی طوفان کے باعث کچھ حد تک راحت ملی ہے۔

















