امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے 28 فروری کو ایران پر کئے گئے یکطرفہ حملے کے بعد تہران کی جانب سے شروع کی گئی جوابی کارروائی کے سبب مشرق وسطیٰ میں ہر روز کشیدگی میں اضافہ ہورہا ہے۔ اس دوران ایران کی جانب سے خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو مسلسل نشانہ بنایا جارہا ہے۔ تازہ خبر کے مطابق ایران نے جمعہ کے روز سعودی عرب واقع امریکی فوجی بیس کو نشانہ بنایا جس میں امریکی ایندھن فراہم کرنے والے جہازوں کی ایک بڑی تعداد اور لاجسٹک سپورٹ بیڑے کو تباہ کردیا گیا۔ اس حملے میں کئی امریکی فوجی زخمی بتائے جارہے ہیں۔
خبروں کے مطابق سعودی عرب کی الخرج بیس پر ہوئے حملے میں ایرانی میزائل اور بغیر پائلٹ ڈرون استعمال کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔ وہیں26 سالہ آرمی سارجنٹ بینجمن این پیننگٹن کی یکم مارچ کوایئربیس پر ہوئے حملے میں زخمی ہونے کے چند روز بعد موت ہوگئی۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے بتایا کہ اس جنگ میں اب تک اس کے 300 سے زائد فوجی زخمی ہوئے ہیں۔ ادھر دو امریکی افسران کے مطابق جمعہ کو سعودی عرب میں ایک امریکی فوجی اڈے پر ایرانی میزائل حملے میں کم از کم 10 امریکی فوجی زخمی اور کئی طیاروں کو نقصان پہنچا۔ ایک افسر نے بتایا کہ دو فوجی شدید زخمی ہوئے ہیں۔ دونوں افسران نے فوجی معاملات کی حساسیت کے پیش نظر نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر یہ بات بتائی۔
افسران نے بتایا کہ ایئر بیس پر حملے میں کئی امریکی ایندھن بھرنے والے طیارے تباہ ہوگئے ہیں۔ وہیں دو فوجی شدید زخمی ہوئے ہیں۔ طیاروں کو پہنچنے والے نقصان کو ظاہر کرنے والی سیٹلائٹ تصاویر آن لائن پوسٹ کی گئیں۔ ایرانی میزائل اور بغیر پائلٹ ڈرون حملے کے صرف ایک دن پہلے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایران پوری طرح تباہ ہوچکا ہے۔ وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے یہ بھی کہا کہ تاریخ میں کبھی کسی ملک کی فوج کو اتنی جلدی اور اتنی مؤثر طریقے سے بے اثر نہیں کیا گیا۔















