مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے پارلیمنٹ میں عام بجٹ پیش کر دیا، جس پر حزب اختلاف کی جانب سے شدید تنقید کی جا رہی ہے۔ اسی ضمن میں کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے کہا کہ ’’اس بجٹ میں غریبوں کے لیے کچھ بھی نہیں ہے۔ مودی حکومت کے پاس اب کوئی نیا آئیڈیا نہیں بچا ہے۔ یہ بجٹ ہندوستان کے اہم اقتصادی، معاشرتی اور سیاسی چیلنجوں کے بارے میں جوابات سے کہیں زیادہ سوالات اٹھاتا ہے۔ بجٹ میں غریبوں کے لیے کچھ نہیں ہے، مہنگائی کو کنٹرول کرنے کے لیے کوئی ٹھوس روڈ میپ نہیں ہے۔‘‘
کانگریس صدر نے کہا، ’’بجٹ میں مثبت تجاویز یا ٹھوس اقدامات پیش نہیں کیے گئے ہیں۔ معاشی سروے سے پتہ چلتا ہے کہ تجارت میں غیریقینی صورتحال ہندوستان کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے، پھر بھی بجٹ میں اس معاملہ کا ذکر تک نہیں کیا گیا ہے۔ اسی طرح روپے کی گرتی ہوئی قدر سے نمٹنے کے لیے بھی حکومت کے پاس کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ بجٹ میں صارفین کی مانگ کو پھر سے زندہ کرنے کا کوئی ارادہ نظر نہیں آتا۔‘‘
کانگریس صدر کے مطابق، ’’عدم مساوات برطانوی راج کے دور کی سطح کو بھی عبور کر گئی ہے لیکن بجٹ میں اس کا ذکر تک نہیں ہے۔ نہ ہی درج فہرست ذاتوں، درج فہرست قبائل، دیگر پسماندہ طبقات، اقتصادی طور پر کمزور طبقات یا اقلیتوں کے لیے کسی امداد کا کوئی التزام کیا گیا ہے۔‘‘
ملکارجن کھڑگے نے کہا، ’’حکومت نے گزشتہ سال کے مختص کردہ بجٹ میں سے تعلیم، صحت اور سماجی انصاف جیسے کئی ضروری شعبوں میں پورا فنڈ خرچ ہی نہیں کیا۔ مودی حکومت کا نعرہ ’سب کا ساتھ، سب کا وکاس‘ لیکن بجٹ کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ تعلیم پر پیسہ خرچ نہیں کیا گیا اور بجٹ بھی گزشتہ سال کے مقابلے میں کم کر دیا گیا ہے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’پہلے کی حکومتیں تعلیم، صحت اور طلبہ کے لیے اسکالرشپ پر زیادہ زور دیتی تھیں۔ وزیر خزانہ نے ایک بار بھی اسکولوں کا ذکر نہیں کیا اور سماجی تحفظ و بہبود کے حوالے سے ایک بھی اعلان نہیں کیا۔ اس کے علاوہ، منریگا کی جگہ آنے والے نئے قانون کے بجٹ کے بارے میں کوئی تذکرہ نہیں کیا۔ یہ ایک تھکی ہوئی اور ریٹائر ہو چکی حکومت کا بجٹ ہے۔ اول تو یہ پیسہ دینا نہیں چاہتے اور اوپر سے مختص رقومات کو بھی خرچ نہیں کرتے۔

















