وزیرِ خزانہ نرملا سیتارمن نے آج پارلیمنٹ میں مالی سال 2026-27 کا مرکزی بجٹ پیش ہوئے کہا کہ بجٹ میں اصلاحات، سرمایہ کاری اور نوجوانوں کی صلاحیتوں کو سامنے رکھتے ہوئے ’ترقی یافتہ ہندوستان‘ کے ہدف پر توجہ دی گئی ہے۔ بجٹ تقریر اور دستاویز میں حکومت کی جانب سے مختلف شعبوں سے متعلق متعدد اعلانات شامل ہیں۔
وزیرِ خزانہ کے مطابق حکومت نے بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لیے 12.2 لاکھ کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز دی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ رقم گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً 9 فیصد زیادہ ہے اور اس کا مقصد سڑکوں، پلوں، بجلی اور دیگر منصوبوں کے کام میں تیزی لانا ہے۔
بجٹ میں دفاعی وزارت کے لیے 7.8 لاکھ کروڑ روپے مختص کرنے کی بات کہی گئی ہے۔ وزیرِ خزانہ نے کہا کہ اس رقم کا ایک بڑا حصہ سرمایہ جاتی اخراجات کے لیے رکھا گیا ہے تاکہ دفاعی ضروریات کو پورا کیا جا سکے۔ریلوے کے شعبے میں حکومت نے سات نئے ہائی اسپیڈ ریلوے کوریڈورز کی تعمیر کی تجویز دی ہے۔ وزیرِ خزانہ کے مطابق دہلی–وارانسی، ممبئی–پونے اور پونے–حیدرآباد جیسے اہم روٹس اس میں شامل ہیں۔ ریلوے حفاظت کے نظام “کوچ” کو وسعت دینے کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔
خواتین کی تعلیم سے متعلق بجٹ میں کہا گیا ہے کہ حکومت ہر ضلع میں کم از کم ایک گرلز ہاسٹل بنانے کا ہدف رکھتی ہے۔ وزیرِ خزانہ کے مطابق اس اقدام کا مقصد طالبات کو تعلیمی سہولتیں فراہم کرنا ہے۔بجٹ میں طلبہ کے لیے “ڈیسٹینیشن ڈیجیٹل نالج گرڈ” قائم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ وزیرِ خزانہ نے کہا کہ اس کے ذریعے ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر معیاری تعلیمی مواد دستیاب کرایا جائے گا۔
وزیرِ خزانہ کے مطابق کینسر اور ذیابیطس جیسی بیماریوں کی ادویات پر درآمدی ڈیوٹی اور بعض ٹیکسوں میں کمی کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی نجی شعبے کے تعاون سے پانچ نئے علاقائی طبی مراکز اور تین نئے ایمس بنانے کی بات بجٹ میں شامل ہے۔ٹیکنالوجی کے شعبے میں حکومت نے “سیمی کنڈکٹر مشن 2.0” شروع کرنے کا اعلان کیا ہے، جس کے لیے 40 ہزار کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی تجویز دی گئی ہے۔ وزیرِ خزانہ نے کہا کہ اس سے مقامی الیکٹرانکس اور چِپ ڈیزائن کو فروغ ملے گا۔زرعی شعبے کے لیے “بھارت وستار” نامی کثیر لسانی اے آئی ٹول شروع کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ وزیرِ خزانہ کے مطابق یہ ٹول کسانوں کو فصل، موسم اور منڈی کی قیمتوں سے متعلق معلومات فراہم کرے گا۔
بجٹ میں بیرونِ ملک تعلیم، طبی علاج اور ٹور پیکج پر عائد ٹیکس کلیکٹڈ ایٹ سورس کو 5 فیصد سے کم کر کے 2 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ نظرثانی شدہ انکم ٹیکس ریٹرن داخل کرنے کی آخری تاریخ 31 دسمبر سے بڑھا کر 31 مارچ کر دی گئی ہے۔ تاہم انکم ٹیکس سلیب میں کسی تبدیلی کی بات نہیں کی گئی۔
ایم ایس ایم ای شعبے کے لیے 10 ہزار کروڑ روپے کے ایس ایم ای گروتھ فنڈ کی تجویز دی گئی ہے۔ ماحولیات کے لیے “کاربن جذب اور استعمال کی اسکیم” کے تحت 20 ہزار کروڑ روپے مختص کرنے کا ذکر کیا گیا ہے، جبکہ آئندہ پانچ برسوں میں 20 نئی قومی آبی گزرگاہیں شروع کرنے کی بات کہی گئی ہے۔
آخر میں وزیرِ خزانہ نے بتایا کہ حکومت نے مالی سال 2026-27 کے لیے جی ڈی پی کی شرحِ نمو کا ہدف 7 فیصد رکھا ہے اور 16ویں مالیاتی کمیشن کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے مرکز اور ریاستوں کے درمیان وسائل کی تقسیم سے متعلق نکات بیان کیے ہیں۔
















