• Home
ہفتہ, مئی 16, 2026
No Result
View All Result
हिंदी समाचार
Qaumi Tanzeem | Urdu Daily Newspaper | Patna | Ranchi | Lucknow
Epaper
  • صفحہ اول
  • قومی خبریں
  • بہار
    صرف رام کا نام لینے سے کام نہیں چلے گا، ان کی تعلیمات پر عمل بھی کرنا ہوگا۔تیجسوی

    پٹنہ میں بلیک آؤٹ مشق کے دوران تاجر کاقتل

    سہرسہ میں ’مڈ ڈے میل‘ کھاتے ہی 250 سے زائد بچے  بیمار

    سہرسہ میں ’مڈ ڈے میل‘ کھاتے ہی 250 سے زائد بچے بیمار

    نتیش کمار کے بیٹے کی باضابطہ طور پر اقتدار کی سیاست میں انٹری

    نتیش کمار کے بیٹے کی باضابطہ طور پر اقتدار کی سیاست میں انٹری

    والد کو کڈنی عطیہ کرنے کے بی جے پی کے سوال کا روہنی کاسخت جواب

    بی جے پی بنگال کو منی پور بنانے پر آمادہ

    سمراٹ چودھری نے  اسمبلی میں اعتماد کا ووٹ حاصل کر لیا

    سمراٹ چودھری نے اسمبلی میں اعتماد کا ووٹ حاصل کر لیا

    وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری نے داخلہ سمیت 29 محکمے رکھے اپنے پاس

    پٹنہ سمیت 11 اہم شہروں کے پاس سیٹلائٹ ٹاؤن شپ بنانے کی تیاری

    بہار میں آسمانی بجلی کی زد میں آنے سے کم از کم 25 لوگوں کی موت ‘وزیر اعلیٰ نتیش کمار کا اظہارِ افسوس

    نتیش کمار نے بنائی جنتا دل یو کی نئی ٹیم

    ہمارا دردبہار کے کروڑوں نوجوانوں کی تکلیف کے سامنے کچھ بھی نہیں۔تیجسوی

    بدعنوانی کے باعث بہار کو مالی بحران کا سامنا – تیجسوی

    مرکز کی مودی حکومت پر تیجسوی یادوکا زبردست حملہ

    خواتین ریزرویشن بل کے خلاف کوئی نہیں: تیجسوی یادو

  • عالمی خبریں
  • ادبیات
  • تعلیم و روزگار
  • خواتین
  • انٹرٹینمنٹ
  • صفحہ اول
  • قومی خبریں
  • بہار
    صرف رام کا نام لینے سے کام نہیں چلے گا، ان کی تعلیمات پر عمل بھی کرنا ہوگا۔تیجسوی

    پٹنہ میں بلیک آؤٹ مشق کے دوران تاجر کاقتل

    سہرسہ میں ’مڈ ڈے میل‘ کھاتے ہی 250 سے زائد بچے  بیمار

    سہرسہ میں ’مڈ ڈے میل‘ کھاتے ہی 250 سے زائد بچے بیمار

    نتیش کمار کے بیٹے کی باضابطہ طور پر اقتدار کی سیاست میں انٹری

    نتیش کمار کے بیٹے کی باضابطہ طور پر اقتدار کی سیاست میں انٹری

    والد کو کڈنی عطیہ کرنے کے بی جے پی کے سوال کا روہنی کاسخت جواب

    بی جے پی بنگال کو منی پور بنانے پر آمادہ

    سمراٹ چودھری نے  اسمبلی میں اعتماد کا ووٹ حاصل کر لیا

    سمراٹ چودھری نے اسمبلی میں اعتماد کا ووٹ حاصل کر لیا

    وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری نے داخلہ سمیت 29 محکمے رکھے اپنے پاس

    پٹنہ سمیت 11 اہم شہروں کے پاس سیٹلائٹ ٹاؤن شپ بنانے کی تیاری

    بہار میں آسمانی بجلی کی زد میں آنے سے کم از کم 25 لوگوں کی موت ‘وزیر اعلیٰ نتیش کمار کا اظہارِ افسوس

    نتیش کمار نے بنائی جنتا دل یو کی نئی ٹیم

    ہمارا دردبہار کے کروڑوں نوجوانوں کی تکلیف کے سامنے کچھ بھی نہیں۔تیجسوی

    بدعنوانی کے باعث بہار کو مالی بحران کا سامنا – تیجسوی

    مرکز کی مودی حکومت پر تیجسوی یادوکا زبردست حملہ

    خواتین ریزرویشن بل کے خلاف کوئی نہیں: تیجسوی یادو

  • عالمی خبریں
  • ادبیات
  • تعلیم و روزگار
  • خواتین
  • انٹرٹینمنٹ
No Result
View All Result
Qaumi Tanzeem | Urdu Daily Newspaper | Patna | Ranchi | Lucknow
No Result
View All Result
ADVERTISEMENT
Home قومی خبریں

وقف ترمیمی بل خطرناک ارادوں کا عکاس:مسلم پرسنل لا بورڈ

پریس کانفرنس میں نائب صدر مولانا ارشدمدنی نے کہا کہ یہ بھی مذہبی معاملات میں مداخلت ہے جو مسلمانوں کو ہر گزمنظورنہیں ہے

by Qaumi Tanzeem
اگست 23, 2024
in قومی خبریں
0
وقف ترمیمی بل خطرناک ارادوں کا عکاس:مسلم پرسنل لا بورڈ

نئی دہلی : وقف ترمیمی بل کے خلاف پرہجوم مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدرجمعیۃعلماء ہند اور مسلم پرسنل لابورڈ کے نائب صدر مولانا ارشدمدنی نے اعادہ کیا کہ ترمیمی بل وقف کے تعلق سے لایاجارہاہے -یہ نہ صرف غیر آئینی،غیر جمہوری اورغیر منصفانہ ہے بلکہ وقف ایکٹ میں کی جانے والی مجوزہ ترامیم آئین ہند سے حاصل مذہبی آزادی کے بھی خلاف اور آئین ہند کے دفعات 14 ، 15 اور25کی خلاف ورزی ہے ۔ آج یہاں وقف ترمیمی بل 2024کے تناظرمیں جمعیۃعلماء ہند اورمسلم پرسنل لا بورڈکی طرف سے منعقد ہ پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ حکومت یہ بھی مذہبی معاملات میں مداخلت ہے جو مسلمانوں کو ہر گزمنظورنہیں ہے ، اس لئے کہ ترمیمات کی آڑمیں بل کے ذریعہ ملک کے مسلمانوں کو اللہ کے نام پر وقف اس عظیم ورثہ سے محروم کردینے کی کوشش ہورہی ہے جو ان کے آباء و اجداد ملت کے غریب و نادار اور ضروتمند لوگوں کی امدادکے لئے وقف کی شکل میں چھوڑگئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مسلم مذہبی شخصیتوں سے کسی طرح کا صلاح ومشورہ کئے اورمسلمانوں کو اعتمادمیں لئے بغیربل میں ترمیمات کی گئی ہیں جبکہ وقف خالص مذہبی اورشرعی معاملہ ہے ،کیونکہ ایک بار وقف کا اطلاق ہونے کے بعد واقف جائیدادموقوفہ کا مالک نہیں رہتاہے ،بلکہ وہ جائیداداللہ کی ملکیت ہوجاتی ہے ۔ مولانا مدنی نے کہا کہ ترمیمی بل کو پارلیمنٹ میں پیش کرتے ہوئے دعویٰ کیاگیاکہ اس سے کام کاج میں شفافیت آئے گی اورمسلم معاشرہ کے کمزوراورضرورتمندافرادکو فائدہ پہنچے گا، لیکن ترمیمات کی اب جو تفصیلات سامنے آئی ہیں ان کو دیکھ کر بجاطورپر کہا جاسکتاہے کہ یہ بل حکومت کی بدنیتی اوراس کے خطرناک عزائم کا ثبوت ہے ، اس لئے اگر یہ بل پاس ہوگیاتونہ صرف ملک بھرمیں واقع وقف جائیدادوں کا تحفظ خطرہ میں پڑسکتاہے بلکہ نئے تنازعات کا ایک دہانہ بھی کھل جائے گا اور ان مسجدوں،مقبروں، عمارتوں، امام باڑوں اورزمینوں کی حیثیت مشکوک بنادی جائے گی جو وقف ہیں یاجو وقف اراضی پر واقع ہیں۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہندومذہبی مقامات کی دیکھ بھال اورتحفظ کے لئے جو شرائن بورڈ تشکیل دیا گیا اس کے لئے صاف طورپر یہ وضاحت موجودہے کہ جین، سکھ یابودھ اس کے ممبرنہیں ہوں گے ، انہوں نے سوال کیا کہ اگر جین، سکھ اوربودھ شرائن بورڈکے ممبرنہیں ہوسکتے تو وقف بورڈمیں غیر مسلموں کی نامزدگی اورتقرری کو کس طرح درست ٹھہرایاجاسکتاہے ،؟جبکہ جین اور بدھ ہندوومذہب سے الگ نہیں سمجھاجاتابلکہ انہیں ایک الگ فرقہ تصورکیا جاتاہے ، چنانچہ اگر شرائن بورڈمیں ہندوہوتے ہوئے بھی ایک فرقہ ہونے کی بنیادپر ان کی شراکت نہیں ہوسکتی تو وقف بورڈوں میں غیرمسلموں کی نامزدگی اورتقرری کو لازمی کیوں کیا جارہاہے ؟آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے صدر مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے وقف ترمیمی بل کے خطرات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ تمام اہم مسلم تنظیمیں اور ادارے لوک سبھا میں پیش کیے گئے نئے مجوزہ وقف ترمیمی بل کو وقف کے تحفظ اور شفافیت کے نام پر وقف املاک کو تباہ کرنے اور ان پر قبضہ کرنے کی کھلی سازش قرار دیتے ہیں۔ ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اپنے اقدامات سے باز آجائے اور بل واپس لے ۔انہوں نے کہا کہ اس پریس کانفرنس کے ذریعہ مسلمانوں کا درد پیش کر رہے ہیں۔ آپ سے (میڈیا) سے امید ہے کہ اس درد کو عوام تک پہنچائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اصلاح کا دعوی کرتی ہے لیکن قابضین کی سزا کو ختم یا کم کرنے پر آمادہ نظر آتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس بل کے خلاف قانون کے دائرہ میں رہتے ہوئے ہر طریقے کو اختیار کریں گے ۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ دوسری اقلیتوں کو بھی اعتماد میں لینے کی کوشش کریں گے ۔مجوزہ بل میں نہ صرف وقف کی تعریف، سرپرست کی حیثیت اور وقف بورڈ کے اختیارات کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی گئی ہے بلکہ پہلی بار سنٹرل وقف کونسل اور وقف بورڈ کے ارکان کی تعداد بڑھانے کے نام پر غیر مسلموں کو کو بھی اس میں شامل کرنے کی تجویز دی گئی ہے ۔ اس سے قبل سنٹرل وقف کونسل میں ایک غیر مسلم رکن کو رکھا جا سکتا تھا، منظور شدہ بل میں یہ تعداد 13 تک ہو سکتی ہے ، جس میں سے دو کا ہونا لازمی ہے ۔ اسی طرح اس سے قبل وقف بورڈ کا چیئرمین صرف غیر مسلم ہوسکتا تھا لیکن منظور شدہ بل میں یہ تعداد 7 تک ہوسکتی ہے جب کہ بل کے مطابق دو کی ضرورت ہوگی۔ یہ تجویز آئین کے سیکشن 26 سے براہ راست متصادم ہے ، جو اقلیتوں کو یہ حق دیتا ہے کہ وہ نہ صرف اپنے مذہبی اور ثقافتی ادارے قائم کریں بلکہ انہیں اپنے انداز میں چلا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ یہاں یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ ملک کی کئی ریاستوں میں ہندوؤں کے اوقاف کے انتظام اور تسلسل کے لیے ضروری ہے کہ اس کے ارکان اور انچارج ہندو عقائد کی پیروی کریں۔ اسی طرح گرودوارہ پلاننگ کمیٹی کے ارکان بھی لازمی طور پر سکھ برادری سے ہوں گے ۔ اسی طرح پہلے وقف بورڈ کے ارکان کا انتخاب کیا جاتا تھا، اب انہیں نامزد کیا جائے گا۔ اسی طرح منظور شدہ بل نے وقف بورڈ کے امیدواروں کے لیے مسلمان ہونے کی شرط کو ہٹا دیا ہے ۔ موجودہ وقف ایکٹ کے تحت ریاستی حکومت وقف بورڈ کے ذریعہ سفارش کردہ دو افراد میں سے کسی ایک کو نامزد کرسکتی تھی، جو ڈپٹی سکریٹری کے عہدے سے نیچے نہیں ہونا چاہئے ، لیکن اب وقف بورڈ کے ذریعہ سفارش کئے جانے کی شرط کو ہٹا دیا گیا ہے اور اب سیکرٹری کی شرط ختم کر دی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ امیدوار سیکرٹری کے عہدے سے کم نہ ہو۔ یہ ترامیم واضح طور پر سنٹرل وقف کونسل اور وقف بورڈ کے اختیارات کو کم کرتی ہیں اور حکومتی مداخلت کی راہ ہموار کرتی ہیں۔مولانا رحمانی نے کہا کہ مجوزہ وقف بل حکومت کے لیے جائیداد پر قبضہ کرنے کی راہ بھی ہموار کرتا ہے ۔ اگر کوئی جائیداد حکومت کے قبضے میں ہے تو اس کا فیصلہ کرنے کا مجموعی اختیار بھی کلکٹر کو منتقل کردیا گیا ہے ۔ کلکٹر کے فیصلے کے بعد وہ ریونیو ریکارڈ درست کرائے گا اور حکومت وقف بورڈ سے اس جائیداد کو اپنے ریکارڈ سے حذف کرنے کو کہے گی۔اسی طرح اگر وقف املاک پر کوئی تنازعہ تھا تو اس کا فیصلہ کرنے کا اختیار بھی وقف بورڈ کے ذمہ تھا جو پہلے وقف ٹریبونل کے ذریعے اس کا فیصلہ کرواتا تھا، اب وقف ٹریبونل کا یہ اختیار بھی وقف بورڈ کے سپرد کر دیا گیا ہے ۔ مجوزہ بل میں کلکٹر۔ موجودہ وقف ایکٹ میں کسی بھی تنازعہ کو ایک سال کے اندر وقف ٹریبونل کے سامنے لانا ضروری تھا، اس کے بعد کسی بھی تنازع کی سماعت نہیں ہوگی۔ اب یہ شرط بھی ختم کر دی گئی ہے ۔ منظور شدہ بل میں کلکٹر اور سرکاری انتظامیہ کو سمجھے جانے والے اختیارات دیے گئے ہیں۔ آج جب کلکٹر کے حکم پر مسلمانوں کی زمینوں پر بلڈوزر چلائے جارہے ہیں تو وقف املاک کے بارے میں ان کے رویہ پر کیسے اعتبار کیا جائے ؟مجوزہ بل میں انڈومنٹ ایکٹ 1995 کے سیکشن 40 کو مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے ۔ یہ سیکشن وقف بورڈ کے دائرہ کار، حدود اور اختیارات کا تعین کرتا ہے ، جس کے تحت وقف رجسٹریشن، وقف املاک کی حیثیت وغیرہ کا فیصلہ کیا جاتا ہے ۔ اب یہ تمام اختیارات کلکٹر کے حوالے کر دیے گئے ہیں۔ اسی طرح وقف بورڈ کے سروے کمشنر کو نامزد کرنے کا اختیار بھی ختم کردیا گیا ہے ۔ منظور شدہ بل میں یہ ذمہ داری بھی کلکٹر کو سونپی گئی ہے ۔محفوظ استعمال کی شق کو اجازت شدہ بل سے ہٹا دیا گیا ہے ۔ اوقاف کے اسلامی قانون میں اسے ایک اہم مقام حاصل ہے ۔ جسے وقف ایکٹ 1995 میں بھی اہمیت دی گئی ہے ۔ جس میں کہا گیا ہے کہ وقف کے استعمال کی جگہ (مسجد، مزار یا قبرستان) جو عرصہ دراز سے زیر استعمال ہے اسے بھی وقف تسلیم کیا جائے گا، چاہے وہ وقف کے طور پر رجسٹرڈ ہی کیوں نہ ہو۔ اسے ہٹانا نہ صرف وقف کے اصولوں کی خلاف ورزی ہوگی بلکہ فرقہ پرست عناصر کو وقف املاک پر قبضہ کرنے کا ہتھیار بھی فراہم کرے گا۔ اس طرح اگر ایسی مساجد، مدارس، درگاہیں اور قبرستان صدیوں سے زیر استعمال ہیں، اگر ان کا اندراج ملک کے ریونیو ریکارڈ میں نہ کیا جائے تو ان پر مقدمات، جھگڑوں اور ناجائز قبضوں کی راہ ہموار ہو جائے گی۔مجوزہ بل میں وقف کے لیے ایک مضحکہ خیز شرط عائد کی گئی ہے کہ اسے کم از کم پچھلے پانچ سال سے اسلام پر عمل کرنا چاہیے تھا۔ یہ تجویز ہندوستان کی بنیادی اخلاقیات اور روح کے بھی خلاف ہے ۔ جبکہ موجودہ ایکٹ کہتا ہے کہ کسی بھی شخص کی طرف سے کسی بھی جائیداد کا رضاکارانہ عطیہ خواہ منقولہ ہو یا غیر منقولہ، کسی بھی مقصد کے لیے جسے مسلم قانون کے تحت مذہبی یا خیراتی عمل کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے ، ایک مذہبی یا خیراتی عمل ہے ۔ پھر یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ کوئی شخص اسلام پر عمل کر رہا ہے یا نہیں اس کی سند کون دے گا؟آل انڈیا مسلم پرسنل بورڈ، جمعیۃ علماء ہند، جماعت اسلامی ہند، مرکزی جمعیت اہل حدیث اور تمام دینی و مذہبی تنظیموں نے کہا ہے کہ یہ بل وقف املاک کو تباہ کرنے اور ان پر قبضہ کرنے کی راہ ہموار کرنے کے لیے لایا ہے ، اسے مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے اور حکومت سے فوری طور پر واپس لینے مطالبہ کیا ۔ اس پریس کانفرنس میں مسلم پرسنل لا بورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا فضل الرحیم مجددی، سید سعادت اللہ حسینی امیر جماعت اسلامی ہند و نائب صدر بورڈ،امیر مرکزی کمیٹی اہل حدیث و نائب صدر بورڈ ، ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس موجود تھے ۔

Qaumi Tanzeem

Qaumi Tanzeem

Related Posts

پرانی آدھار ایپ  بند  کرنے کا یو آئی ڈی اے آئی کا  فیصلہ
قومی خبریں

پرانی آدھار ایپ بند کرنے کا یو آئی ڈی اے آئی کا فیصلہ

by Qaumi Tanzeem
مئی 16, 2026
ڈالر کے مقابلےروپیہ اب تک کی سب سے نچلی سطح 85.73 پر پہنچا
قومی خبریں

انٹر بینکنگ کرنسی مارکیٹ میں روپیہ پہلی بار 96 روپے فی ڈالر کی حد سے نیچے

by Qaumi Tanzeem
مئی 16, 2026
مدھیہ پردیش کے دھار واقع بھوج شالہ میں دوسرے دن بھی سروے
قومی خبریں

مدھیہ پردیش ہائیکورٹ نے کمال مولا مسجد کو مندر قرار دیا

by Qaumi Tanzeem
مئی 16, 2026
نیٹ امتحان دوبارہ نہیں۔سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ
قومی خبریں

سپریم کورٹ کا ہفتے میں دو دن ویڈیو کانفرنسنگ سے سماعت کا فیصلہ

by Qaumi Tanzeem
مئی 16, 2026
حجاب پر پابندی سے متعلق عرضیوں پر ’سپریم کورٹ میں‘جلد سماعت کا امکان
قومی خبریں

نیٹ پیپر لیک معاملہ میں واٹس ایپ اور ٹیلیگرام چیٹس سے اہم ڈیجیٹل شواہد ملنے کا دعویٰ

by Qaumi Tanzeem
مئی 15, 2026
آدھار، ووٹر آئی ڈی اور راشن کارڈ کو حتمی شہریت کا ثبوت ماننے سے  الیکشن کمیشن کا انکار
قومی خبریں

دہلی سمیت 16 ریاستوں اور 3 مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں SIR کا اعلان

by Qaumi Tanzeem
مئی 15, 2026
Next Post
شکھر دھون کا بین الاقوامی اور گھریلو کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا فیصلہ

شکھر دھون کا بین الاقوامی اور گھریلو کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا فیصلہ

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Recommended

اب جوہر یونیورسٹی پر انکم ٹیکس اور سی پی ڈبلیو ڈی کا چھاپہ

اعظم خان ایک اور کیس میں قصوروار قرار

6 گھنٹے ago
پرانی آدھار ایپ  بند  کرنے کا یو آئی ڈی اے آئی کا  فیصلہ

پرانی آدھار ایپ بند کرنے کا یو آئی ڈی اے آئی کا فیصلہ

7 گھنٹے ago

Popular News

    Connect with us

    Categories

    • aaa
    • اتر پردیش
    • ادبیات
    • انٹرٹینمنٹ
    • بہار
    • تعلیم و روزگار
    • خواتین
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • عرب ممالک
    • قومی خبریں
    • کھیل
    • About
    • Advertise
    • Terms & Conditions
    • Grievance
    • Letter to Editor
    • Contact

    © 2023 Qaumi Tanzeem - Urdu Daily Newspaper Qaumitanzeem

    No Result
    View All Result
    • صفحہ اول
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
      • بہار
    • عرب ممالک
    • عالمی خبریں
    • ادبیات
    • تعلیم و روزگار
    • کھیل
    • خواتین
    • انٹرٹینمنٹ
    • हिंदी समाचार

    © 2023 Qaumi Tanzeem - Urdu Daily Newspaper Qaumitanzeem