مسلم پرسنل لاء بورڈ نے وقف ترمیمی بل معاملے میں ہندوستانی صدر مرمو سے فوراً ملاقات کا وقت مانگا ہے۔ انھوں نے یہ وقت ایک خط لکھ کر مانگا ہے اور وقف ترمیمی بل سے متعلق اپنی تشویش کا اظہار بھی کیا ہے۔ اس سے قبل کہ صدر جمہوریہ اس بل کو منظوری دے دیں، بورڈ چاہتا ہے کہ اپنی فکر ان کے سامنے رکھیں۔ مسلم پرسنل لاء بورڈ کے ترجمان ڈاکٹر ایس یو آر الیاس نے بورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا فضل الرحیم کی طرف سے لکھے گئے خط کا مواد شیئر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’بل کے ذریعہ پیش کی گئیں ترامیم میں اہم بدلاؤ شامل ہیں، جو کہ وقف ادارہ کے انتظام و انصرام اور خود مختاری کو متاثر کرتے ہیں۔
اپنے خط میں مسلم پرسنل لاء بورڈ نے کہا ہے کہ صدر جمہوریہ سے ملنے کا مقصد حال ہی میں پارلیمنٹ سے پاس ’وقف (ترمیمی) بل 2025‘ اور ملک بھر کے مسلم طبقہ کے لیے اس کے بارے میں اپنی فکر ظاہر کرنا ہے۔ بورڈ نے خط میں لکھا ہے کہ ’’یہ بل پوری طرح سے غیر آئینی ہے اور ملک کے مسلمانوں پر حملہ ہے۔ ہمارا ماننا ہے کہ بل کے التزامات پر سنجیدگی سے از سر نو غور کرنے کی ضرورت ہے، کیونکہ وہ ہندوستانی آئین کے تحت ملے بنیادی حقوق کے خلاف ہیں، خاص طور سے مذہبی آزادی، مساوات اور مذہبی اداروں کے تحفظ سے متعلق۔