ہندوستانی خاتون پہلوان ونیش پھوگاٹ کو سپریم کورٹ نے آج اس وقت بڑی راحت پہنچائی، جب انھیں 2026 ایشین گیمز کے سلیکشن ٹرائلس میں حصہ لینے کی اجازت دے دی۔ یہ ٹرائلس 30 اور 31 مئی کو ہونے ہیں، لیکن ڈبلیو ایف آئی (ریسلنگ فیڈریشن آف انڈیا) نے کچھ ضابطوں کا حوالہ دے کر ونیش کو ٹرائلس میں حصہ لینے کی اجازت نہیں دی تھی۔
جسٹس پی ایس نرسمہا اور جسٹس آلوک ارادھے کی بنچ نے ونیش پھوگاٹ کو ٹرائلس میں شرکت کی اجازت پر مشتمل حکم اس عرضی پر سماعت کرتے ہوئے دیا، جسے ڈبلیو ایف آئی نے دہلی ہائی کورٹ کے فیصلہ کے خلاف داخل کیا تھا۔ ہائی کورٹ نے پہلے ہی ونیش پھوگاٹ کو ٹرائلس میں شرکت کی اجازت دے دی تھی۔
آج ہوئی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے ایک طرح سے ڈبلیو ایف آئی کو پھٹکار لگائی اور صاف لفظوں میں کہا کہ ونیش پھوگاٹ کا معاملہ عام کھلاڑیوں سے مختلف ہے، کیونکہ انھوں نے ملک کو کئی مواقع پر فخر کا احساس کرایا۔ عدالت نے کہا کہ ’’اگر کوئی دیگر کھلاڑی ہوتا تو معاملہ مختلف ہوتا۔ انھوں نے (ونیش پھوگاٹ نے) ملک کا نام روشن کیا ہے۔‘‘ حالانکہ عدالت نے کھیل معاملوں میں بار بار عدالتی مداخلت پر فکر کا اظہار بھی کیا۔ جسٹس نرسمہا نے کہا کہ ’’آپ شاندار ریسلر ہیں، آپ نے ملک کو فخر محسوس کرایا ہے، لیکن ملک پہلے ہے۔ ہائی کورٹ پورے شیڈول کو رخنہ انداز نہیں کر سکتا۔


















