رام مندر سے متعلق مبینہ نذرانہ چوری کی جانچ کے درمیان اب ایک نیا انکشاف تقرریوں میں رشوت سے متعلق ہوا ہے۔ اس کے بعد مندر میں ہونے والی تقرریوں کا عمل بھی تحقیقات کے دائرے میں آ گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق پولیس ان الزامات کی جانچ کر رہی ہے جن میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ رام مندر میں ملازمت دلانے کے نام پر رشوت لی گئی تھی۔ پولیس مختلف دستاویزات، مالی لین دین اور متعلقہ افراد کے بیانات کی بنیاد پر پورے معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق گرفتار ملزم اویناش شکلا سے پوچھ گچھ کے دوران تحقیقاتی ایجنسیوں کو کچھ ایسے اشارے ملے جنہوں نے تحقیقات کی سمت بدل دی۔ بتایا جا رہا ہے کہ پوچھ گچھ میں ٹرسٹ کے ایک رکن کا نام بار بار سامنے آیا، جس کے بعد پولیس نے اس کے کردار کی بھی جانچ شروع کر دی ہے۔ اب یہ معلوم کرنے کی کوشش ہو رہی ہے کہ مندر میں تقرریوں کے دوران کسی قسم کی مالی بے ضابطگی ہوئی تھی یا نہیں۔
کچھ میڈیا رپورٹس میں ذرائع کے حوالہ سے بتایا گیا ہے کہ تحقیقات کے دوران رام مندر میں مختلف عہدوں پر تقریباً 125 ملازمین کی بھرتی کی جانکاری دی گئی ہے۔ الزام ہے کہ ان میں سے کئی امیدواروں نے ملازمت حاصل کرنے کے لیے رقم ادا کی تھی۔ پولیس اب ان الزامات کی صداقت کی تصدیق کر رہی ہے۔ تحقیقاتی ایجنسیاں یہ بھی جانچ کر رہی ہیں کہ یہ معاملہ چند تقرریوں تک محدود تھا یا کسی منظم بھرتی نیٹورک کے ذریعہ یہ سب کچھ انجام دیا گیا تھا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ تحقیقات کے دوران پولیس نے بھرتیوں سے متعلق ریکارڈ کی چھان بین شروع کر دی ہے۔ ابتدائی جانچ میں کئی ملازمین کے حوالے سے تقرری نامے، باضابطہ ملازمت کے معاہدے یا روزگار سے متعلق دیگر ضروری دستاویزات فوری طور پر دستیاب نہیں ہو سکیں۔ اسی وجہ سے اب ہر تقرری کی الگ الگ جانچ کی جا رہی ہے۔ پولیس یہ معلوم کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ تقرریاں کس طریقۂ کار کے تحت ہوئیں، کس کی ہدایت پر ہوئیں اور متعلقہ دستاویزات کہاں موجود ہیں۔


















