میرٹھ سے متصل سردھنا علاقہ کے کپساڑ گاؤں میں درج فہرست ذات کی لڑکی روبی کے اغوا اور اس کی ماں سنیتا کے بہیمانہ قتل کے بعد حالات انتہائی کشیدہ بنے ہوئے ہیں۔ صورتحال یہ ہے کہ گاؤں میں غیر اعلانیہ کرفیو جیسا ماحول ہے۔ کپساڑ سے لے کر سردھنا تحصیل تک پورے علاقے کو پولیس نے سیل کر دیا ہے۔ باہری لوگوں کے داخلے پر تو پہلے سے ہی پابندی عائد ہے، اب گاؤں کے پڑوسی بھی نظر بند کر دیے گئے ہیں۔ حالت یہ ہے کہ آس پاس کے رہنے والے لوگ بھی متاثرہ اہل خانہ سے ملنے یا تسلی دینے نہیں جا پا رہے ہیں۔ پولیس ہر آنے جانے والے پر سخت نظر رکھ رہی ہے۔
واضح رہے کہ واقعہ کے 4 روز گزر جانے کے باوجود گاؤں میں دہشت اور کشیدگی کا ماحول بنا ہوا ہے۔ ٹول پلازہ، سردھنا سرحد اور گاؤں کے باہری کنارے سے لے کر متاثرہ خاندان کے گھر تک خاکی وردی کا پہرہ نظر آ رہا ہے۔ میڈیا اور اپوزیشن پارٹیوں کے لیڈران کے داخلے پر مکمل پابندی ہے۔ گاؤں والوں کو روزمرہ کا سامان لانے کے لیے مرکزی راستوں کے بجائے کھیتوں کی پگڈنڈیوں کا سہارا لینا پڑ رہا ہے۔ پولیس کی نظر پڑتے ہی انہیں پھٹکار اور سختی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ نوکری پیشہ لوگ اور اسکولی بچے بھی گھروں میں قید ہو کر رہ گئے ہیں۔
متاثرہ خاندان سوگ میں ڈوبا ہوا ہے، لیکن حالت ایسے ہیں کہ پڑوسی بھی ان کے گھر تک نہیں پہنچ پا رہے۔ اس کرفیو جیسے ماحول میں گاؤں والوں کے لیے ایک دوسرے کا حال جاننے کا واحد ذریعہ فون ہی رہ گیا ہے۔ گاؤں کی چاروں سرحدوں سمیت سلاوا-سردھنا روڈ، چودھری چرن سنگھ کانوڑ روڈ اور کپساڑ کو اٹیرنا، کیلی، سکوتی اور چک بندی سے جوڑنے والے تمام راستوں پر آر اے ایف، پی اے سی اور بلند شہر، باغپت، مظفر نگر اور ہاپوڑ کی پولیس تعینات ہے۔ مظفر نگر کی جانب سے آنے والی گاڑیوں کو کھتولی میں ہی روک دیا گیا، جبکہ میرٹھ-کرنال ہائی وے پر کئی مرحلوں میں سیکورٹی فورسز تعینات رہنے سے ٹریفک متاثر رہا۔
واضح رہے کہ میرٹھ میڈیکل میں واقع آشا جیوتی کیندر میں پولیس کے ساتھ روبی کے اہل خانہ اس سے ملنے پہنچے۔ بھائی نرسی سمیت اہل خانہ کی روبی سے ملاقات کرائی گئی۔ کاؤنسلنگ کے بعد پیر کو روبی کے گھر لوٹنے کی امید ہے۔ ایس ایس پی ڈاکٹر وپن تاڑا نے بتایا کہ روبی اور اہل خانہ کی کاؤنسلنگ مکمل ہو چکی ہے۔ پولیس نے ملزم پارس سوم کو عدالت میں پیش کر عدالتی حراست میں جیل بھیج دیا ہے۔ سنیتا کے قتل میں استعمال ہونے والا ’پھرسا‘ (کلہاڑی جیسا ایک آلہ) اب بھی برآمد نہیں ہوا ہے۔ پولیس پارس سوم کو کسٹڈی ریمانڈ پر لے کر شواہد اور ڈیجیٹل ثبوت اکٹھا کرے گی۔

















