مشرق وسطیٰ میں ایک بار پھر کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ اتوار کی رات دیر گئے اسرائیل پر دو اطراف سے حملے کئے گئے۔ ایران نے اسرائیل پر میزائل داغے جب کہ لبنان سے تعلق رکھنے والی حزب اللہ نے بھی میزائل اور ڈرون داغے۔ اس کے بعد اسرائیل کا دفاعی نظام متحرک ہوگیا اور مختلف شہروں میں سائرن بجنے لگے۔
اطلاعات کے مطابق ایران نے شمالی اسرائیل کی جانب چار بیلسٹک میزائل داغے۔ اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ اپریل میں جنگ بندی کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب ایران نے اس کے خلاف میزائل داغے ہیں۔ ایران نے اسرائیل کے خلاف یہ حملے لبنان کی وجہ سے کیے ہیں۔ ایران چاہتا ہے کہ اسرائیل لبنان میں فوجی کارروائی بند کرے۔ تاہم اسرائیل وہاں حزب اللہ اور دیگر اہداف پر حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔
ان حملوں کے درمیان ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر محسن رضائی نے بھی ایک بیان جاری کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایران نے بارہا خبردار کیا ہے کہ وہ جنگ بندی کی خلاف ورزیوں اور لبنان پر حملوں کو برداشت نہیں کرے گا۔ حملہ آوروں کو آج رات اس کا جواب ملا۔ دریں اثناء ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے ایرانی اور لبنانی جھنڈوں کی ایک ساتھ تصویر پوسٹ کی۔
ایرانی آئی آر جی سی نے کہا کہ اسرائیل جنگ بندی کی بار بار خلاف ورزی کرتے ہوئے لبنان کے مظلوم عوام کے خلاف اپنی بربریت کو مسلسل تیز کر رہا ہے اور مجرم امریکہ کی ملی بھگت اور بین الاقوامی فورمز کی خاموشی سے فاسفورس بموں سمیت ممنوعہ ہتھیاروں کے استعمال سے جنگی جرائم کا ارتکاب کر رہا ہے۔

















